مشرق وسطیٰ جنگ، ضروری اشیاء کی قیمتوں میں 16 فیصد اضافہ کا امکان ہے، عالمی بینک

04 May 2026 | 07:30

اسلام آباد۔: عالمی بینک نے کہاہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظرمیں جاری سال کے دوران ضروری اشیاءکی قیمتوں میں 16فیصد اضافے کاامکان ہے۔

یہ بات عالمی بینک کی کموڈیٹی مارکیٹ آوٹ لک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے عالمی معیشت کو شدید جھٹکا لگا ہے جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں رواں سال 24 فیصد تک اضافے کا امکان ہے جو 2022 میں روس یوکرین جنگ کے بعد بلند ترین سطح ہوگی۔

توانائی اور کھاد کی بڑھتی قیمتیں اور اہم دھاتوں کی ریکارڈ سطح تک پہنچتی قیمتوں کی وجہ سے مجموعی اشیائے صرف کی قیمتیں 2026 میں 16 فیصد بڑھنے کا امکان ہے جس سے روزگار، ترقی اور عالمی اقتصادی استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اورآبنائے ہرمزمیں بحری آمد و رفت میں خلل کے باعث تیل کی سپلائی کو تاریخ کا سب سے بڑا دھچکا لگا ہے۔ یہ آبنائے دنیا کی سمندری راستے سے ہونے والی خام تیل کی تجارت کا تقریباً 35 فیصد سنبھالتی ہے۔

ابتدائی طور پر عالمی تیل سپلائی میں یومیہ تقریباً ایک کروڑ بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ قیمتوں میں کچھ کمی آئی ہے تاہم اپریل کے وسط تک برینٹ خام تیل کی قیمت سال کے آغاز کے مقابلے میں 50 فیصد سے زائد بلند رہی۔

اندازہ ہے کہ 2026 میں برینٹ تیل کی اوسط قیمت 86 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی، جبکہ 2025 میں یہ 69 ڈالر تھی۔

یہ پیش گوئیاں اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ شدید خلل مئی تک کم ہو جائے گا اور 2026 کے آخر تک آبنائے ہرمز میں ترسیل بتدریج معمول پر آ جائے گی۔

عالمی بینک کے چیف اکانومسٹ اندمیت گل نے بتایاکہ جنگ کے اثرات مرحلہ وار عالمی معیشت کو متاثر کر رہے ہیں ،پہلے توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں، پھر خوراک مہنگی ہوتی ہے، اور آخرکار مہنگائی میں اضافہ ہو کر شرح سود بڑھ جاتی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اس صورتحال میں غریب ترین افراد، جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک اور ایندھن پر خرچ کرتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جبکہ پہلے سے قرضوں کے بوجھ تلے دبی ترقی پذیر معیشتیں بھی شدید دباو کا شکار ہوں گی۔

رپورٹ کے مطابق کھاد کی قیمتوں میں 2026 کے دوران 31 فیصد اضافے کا امکان ہے، جس کی بڑی وجہ یوریا کی قیمت میں 60 فیصد اضافہ ہے۔ اس سے کسانوں کی آمدنی متاثر ہوگی اور فصلوں کی پیداوار کو خطرہ لاحق ہوگا۔

عالمی ادارہ خوراک کے مطابق اگر تنازع طویل ہوا تو مزید 4 کروڑ 50 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ ایلومینیم اور تانبا جیسی بنیادی دھاتوں کی قیمتیں بھی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کی توقع ہے، جس کی وجہ ڈیٹا سینٹرز، الیکٹرک گاڑیوں اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں بڑھتی طلب ہے۔

قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی 42 فیصد اضافے کی پیش گوئی ہے کیونکہ غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کو محفوظ اثاثوں کی طرف لے جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح 5.1 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جو جنگ سے پہلے کے اندازوں سے ایک فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح ان معیشتوں کی شرح نمو 3.6 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔