آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے آپریشن پراجیکٹ فریڈم میں اسکارٹ مشن شامل نہیں، رپورٹ

04 May 2026 | 05:13

واشنگٹن۔: آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں بارے امریکی بحریہ کے آپریشن پراجیکٹ فریڈم میں سکارٹ مشن شامل نہیں ، اس کے بجائے اس مشن کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو محفوظ اور بارودی سرنگوں سے پاک راستوں بارے معلومات فراہم کی جائیں گی۔

تاس نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے نئے اقدام میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لئے لازمی طور پر امریکی بحریہ کے بحری جہاز شامل نہیں ہوں گے۔

ایک اہلکار نے کہا کہ ایران کی فوج کو آبنائے سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر حملہ کرنے سے روکنے کی ضرورت پڑنے کی صورت میں امریکی بحریہ کے جہاز قریب ہی ہوں گے ۔

امریکی حکام کے مطابق امریکی بحریہ تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں بہترین بحری راستوں بارے معلومات فراہم کرنے جا رہی ہے، خاص طور پر جب وہ لین استعمال کرنے کی بات آتی ہے جس میں ایران کی طرف سے بارودی سرنگیں نہیں بچھائی گئیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک پیر کو آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو یہاں سے نکلنے میں مدد کے لیے آپریشن پروجیکٹ فریڈم کا آغاز کرے گا۔

انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ کسی بھی مداخلت سے سختی سے نمٹا جائے گا تاہم کچھ دیر بعد امریکی انتظامیہ کی طرف سے وضاحت کی گئی کہ اس آپریشن میں امریکی بحریہ کے جہازوں کے ذریعے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی حفاظت شامل نہیں ہے۔

امریکی ذرائع کے مطابق پراجیکٹ فریڈم ممالک، انشورنس کمپنیوں اور جہاز رانی کی تنظیموں کے لیے آبنائے کے ذریعے ٹریفک کو منتقل کرنے کے لیے ایک رابطہ کاری کا طریقہ کار ہوگا۔