رائٹ سائزنگ،ٹیکس اور دیگرشعبوں میں اصلاحات کا پروگرام جاری رہے گا، خرم شہزاد

15 April 2026 | 10:33

اسلام آباد۔: وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزاد نے کہاہے کہ توانائی،رائٹ سائزنگ،ٹیکس،قرضوں کے انتظام وانصرام اوردیگرشعبوں میں اصلاحات کاپروگرام جاری رہے گا، جون 2026تک تمام حکومتی ادائیگیوں کو ڈیجیٹائز کرنے کاہدف مقرر کیا گیاہے۔

بدھ کواپنے ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے سٹاف سطح کامعاہدہ ہواہے اور امید ہے کہ مئی تک آئی ایم ایف بورڈکے اجلاس میں اس کی منظوری بھی ہو جائے گی جس کے بعد پاکستان کو1.2ارب ڈالرکی قسط جاری ہوگی۔انہوں نے کہاکہ سٹاف سطح کامعاہدہ اس وقت ہوتا ہے جب تمام پیرامیٹرز اور اہداف حاصل کئے گئے ہوں۔

انہوں نے کہاکہ توانائی،رائٹ سائزنگ،ٹیکس،قرضوں کے انتظام وانصرام اوردیگرشعبوں میں اصلاحات کاپروگرام جاری رہے گا، نجکاری کے پروگرام پربھی عملدرآمدکیا جارہاہے، پی آئی اے کی نجکاری کے بعد یہ عمل تیز کر دیا گیا ہے، کل متعلقہ بورڈز نے تین ڈسکوز کی نجکاری کی منظوری دی ہے، اسی طرح روزویلٹ ہوٹل کیلئے مالیاتی مشیر کی تقرری کوحتمی شکل دی ہے،فیصل آباد،گوجرانوالہ اور اسلام آباد کے ڈسکوز کی نجکاری کی جا رہی ہے،اس کے ٹرانزیکشن ڈھانچہ کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

خرم شہزادنے کہاکہ آئی ایم ایف کاموجودہ پروگرام تین سال کا ہے جس کے تحت 7.2ارب ڈالرکی مالی معاونت حاصل کی جائے گی، اصلاحات کاعمل پاکستان کے اپنے مفادمیں ہے، ماضی میں اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں مشکلات کاسامنا کرناپڑا اورگزشتہ تین برسوں میں اسی کی وجہ سے مشکل فیصلے لینے پڑے۔

انہوں نے کہاکہ ڈیجیٹائزیشن کے پروگرام پربھی عملدرآمد جاری ہے، جون 2026تک تمام حکومتی ادائیگیوں کوڈیجیٹائز کرنے کاہدف مقررکیاگیاہے، اسی طرح ریٹیل سیکٹرکے ایکوسسٹم کوڈیجیٹائزیشن کے چھتری تلے لانا ہے اس سے معیشت کودستاویزی بنانے میں مدد ملے گی۔

خرم شہزادنے کہاکہ مجموعی ٹیکس وصولیوں میں وفاق کاحصہ زیادہ ہے، ہمیں امیدہے کہ صوبے اپنے حصہ میں اضافہ کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے،زرعی انکم ٹیکس کی کلیکشن صوبوں کی ذمہ داری ہے اوراس پرمکمل عملدرآمدسے وصولیوں میں بہتری آئے گی اورجی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہوگا۔