پاکستان کی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور پر کڑی تنقید، مستقل نشستوں میں اضافے کی مخالفت
اقوام متحد ہ ۔: پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کے استعمال کو عالمی سطح پر عدم فعالیت کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے یا سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کونسل میں مستقل اراکین کی تعداد بڑھانے کی بھی سختی سے مخالفت کی ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمدنے سلامتی کونسل میں اصلاحات سے متعلق بین الحکومتی مذاکرات (آئی جی این ) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مؤقف مستقل اور اصولی ہے، جس کے تحت ویٹو پاور کے غلط استعمال کو روکنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اکثر تعطل اور اہم عالمی معاملات پر کارروائی نہ ہونے کی بڑی وجہ مستقل اراکین کی جانب سے ویٹو پاور کا ناجائز استعمال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقل نشستوں میں مزید اضافہ یا ویٹو پاور کی توسیع سے مسائل مزید بڑھیں گے۔
پاکستانی مندوب نے تجویز دی کہ سلامتی کونسل میں غیر مستقل اراکین کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ طاقت کا توازن بہتر بنایا جا سکے اور ویٹو کے اثر کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ منتخب اراکین کونسل کے فیصلوں میں توازن پیدا کریں گے۔
پاکستان نے متبادل تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک نئی کیٹیگری متعارف کرائی جائے جس میں طویل مدت کے لیے منتخب اراکین ہوں، تاہم انہیں مستقل حیثیت نہ دی جائے۔عاصم افتخار احمد نے مزید کہا کہ ویٹو پاور موجودہ دور میں ایک فرسودہ اختیار بن چکا ہے جو جمہوریت، شفافیت اور احتساب جیسے اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات جامع ہونی چاہئیں اور تمام پہلوؤں کو یکجا طور پر دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر عالمی سطح پر حقیقی اصلاحات درکار ہیں تو مراعات کا خاتمہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم سب کے لیے اصلاحات چاہتے ہیں تو کسی کے لیے خصوصی اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
سلامتی کونسل کی اصلاحات کے حوالے سے جاری مذاکرات میں بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل جی فور گروپ مستقل نشستوں کے حصول کے لیے کوشاں ہے جبکہ پاکستان اور اٹلی کی قیادت میں یونائٹنگ فار کنسینسس (یو ایف سی ) گروپ اس کی مخالفت کر رہا ہے۔
