سعودی مالیاتی پیکیج سے ملکی معیشت پر عالمی اعتماد مزید مستحکم ہو گا، پاکستان بزنس فورم

15 April 2026 | 10:09

اسلام آباد۔: پاکستان بزنس فورم نے سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے نئے ڈیپازٹس فراہم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملک کی معاشی سمت اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عالمی اعتماد کی تجدید کا مضبوط اشارہ قرار دیا ہے۔

چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم چوہدری احمد جواد نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے بروقت مالی معاونت دونوں ممالک کے گہرے دوطرفہ تعلقات اور پاکستان کی معاشی حکمتِ عملی پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قلیل مدتی تجدید سے طویل المدتی ڈیپازٹ فریم ورک کی جانب پیشرفت نہایت حوصلہ افزا ہے جو مالیاتی پیش گوئی کو بہتر بنانے اور بیرونی چیلنجز میں کمی لائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ عالمی سرمایہ کاروں اور کثیرالجہتی اداروں کے لئے بھی ایک مثبت پیغام ہے۔

چوہدری احمد جواد نے کہا کہ اس پیشرفت سے پاکستان کی خودمختار مالی ساکھ بہتر ہونے اور پالیسی تسلسل کے لئے گنجائش پیدا ہونے کا امکان ہے جو پائیدار معاشی ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔

پاکستان بزنس فورم کی سینئر نائب صدر آمنہ منور اعوان نے بھی اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کے وسیع معاشی اثرات کو اجاگر کیا اور کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے توسیع شدہ معاونت محض مالی معاونت نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی اصلاحات کی ایک سٹریٹجک توثیق ہے، اس سے ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ کم ہو گا اور شرحِ مبادلہ میں استحکام آئے گا جو براہِ راست کاروباری اعتماد اور صنعتی منصوبہ بندی پر اثر انداز ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زرمبادلہ کے بہتر ذخائر وقت کے ساتھ مہنگائی کے دباؤ میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ اس سے درآمدی لاگت مستحکم ہو گی اور پاکستانی روپے کو سہارا ملے گا۔ پاکستان بزنس فورم کے چیئرمین پنجاب ملک طلعت سہیل نے اس پیشرفت کو وسیع تر علاقائی معاشی ہم آہنگی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سٹریٹجک شراکت دار معاشی بحالی کے مرحلہ میں استحکام پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونی معاونت کے ساتھ ساتھ اندرونی ساختی اصلاحات بھی ضروری ہیں جن میں کاروبار دوست اور مسابقتی ٹیکس نظام کا قیام شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری نے حالیہ عرصہ میں پاکستان کے سفارتی اور سہولت کاری کے کردار اور خاص طور پر ایسے فریقین کے درمیان مکالمہ کے فروغ میں جن کے درمیان دہائیوں سے براہِ راست رابطے منقطع تھے، کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے اقدام کو بھی سراہا ہے