وزیر خزانہ محمداورنگزیب کا یو ایس پاکستان بزنس کونسل کے زیر اہتمام ظہرانے سے خطاب
اسلام آباد۔: وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظرمیں پاکستان کی حکومت سپلائی چین کو مستحکم بنانے، طلب کے بہتر انتظام اور ہدفی سبسڈیز جیسے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بات عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے موسم بہار اجلاس 2026 کے موقع پر یو ایس پاکستان بزنس کونسل کے زیر اہتمام ظہرانے میں گفتگو کرتے ہوئے کہی،اس موقع پر انہوں نے پاکستان میں کام کرنے والی امریکی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات بھی کی۔

وزیر خزانہ نے شرکاء کو پاکستان کی معاشی صورتحال اور اصلاحات کے عمل کے حوالہ سے پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تیسرے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ کر لیا ہےاور آئی ایم ایف بورڈ سے اس کی منظوری جلد متوقع ہے۔
وزیر خزانہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے پاکستان کی معیشت پر اثرات، خاص طور پر توانائی کی فراہمی، قیمتوں اور لاجسٹکس پر پڑنے والے دباؤ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سپلائی چین کو مستحکم بنانے، طلب کے بہتر انتظام اور ہدفی سبسڈیز جیسے اقدامات کر رہی ہے۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ کراچی بندرگاہ پر ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں ریکارڈ آمدن دومثبت پیش رفت ہے ۔وزیر خزانہ نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوششوں پر زور دیا اور خاص طور پر غیر رسمی پیشہ ور طبقے کو ٹیکس نظام میں لانے کے لیے ایف بی آر کے ہدفی آڈٹس اور مختلف شعبوں کے ساتھ رابطے بڑھانے کا ذکر کیا۔
اجلاس کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی ہواجس میں شرکاء نے پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی ایجنڈے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
