بلاجواز التوا کی درخواستیں برداشت نہیں کی جائیں گی، سپریم کورٹ
اسلام آباد۔:سپریم کورٹ آف پاکستان نے مقدمات میں غیر ضروری التوا کی بڑھتی ہوئی روایت پر سخت نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وکلا ء کی ذاتی مصروفیات یا سہولت کی بنیاد پر سماعت ملتوی نہیں کی جا سکتی اور ایسے طرزِ عمل پر آئندہ سخت نتائج بشمول جرمانے سامنے آ سکتے ہیں۔
رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اس اصولی مؤقف کو ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تفصیل سے بیان کیا۔عدالت نے سول پٹیشن نمبر 245/2026 میں درخواست گزار عباس علی شاہ کی اپیل خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ وکیل کی جانب سے پہلے سے ذاتی مصروفیات کا عذر التوا کے لئے کسی طور معقول جواز نہیں بنتا۔ سماعت کے موقع پر درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے التوا کی درخواست دائر کی گئی تاہم عدالت نے اسے غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کو دلائل دینے کی ہدایت کی جس نے عدالت کے سامنے مؤقف پیش کیا۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ کیس میں مداخلت کے لئے کوئی ٹھوس قانونی بنیاد موجود نہیں لہٰذا درخواست مسترد کی جاتی ہے۔تفصیلی حکم نامہ میں عدالت نے سپریم کورٹ رولز 2025 کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ التوا صرف اسی صورت دیا جا سکتا ہے جب ایڈووکیٹ آن ریکارڈ باقاعدہ درخواست دائر کرے۔ درخواست میں معقول وجہ کا ہونا لازمی ہےبلاجواز التوا کی صورت میں وکیل یا فریق پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ کسی وکیل کی عدم دستیابی یا ذاتی مصروفیت بذاتِ خود التوا کی بنیاد نہیں بن سکتی کیونکہ مقدمہ آگے بڑھانے کی ذمہ داری ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پر عائد ہوتی ہے۔فیصلے میں عدالت نے انکشاف کیا کہ جنوری سے مارچ 2026 کے دوران وکلا ء کی جانب سے 653 مرتبہ التوا کی درخواستیں دائر کی گئیں جن میں اکثریت ایسی تھی جب عدالت سماعت کے لئے تیار تھی مگر مقدمہ غیر ضروری طور پر ملتوی کر دیا گیا۔
عدالت نے کہا کہ ہر مقدمے کی سماعت کے لئے ریاستی وسائل بروئے کار لائے جاتے ہیں، جن میں عدالتی عملہ، سکیورٹی، انفراسٹرکچر اور وقت شامل ہے۔ بلاجواز التوا کی صورت میں یہ تمام وسائل ضائع ہو جاتے ہیں جس کا بوجھ براہِ راست عوامی خزانے پر پڑتا ہے۔
مزید برآں عدالت نے قرار دیا کہ غیر ضروری التوا سائلین خصوصاً کم وسائل رکھنے والے افراد کے لئے اضافی اخراجات اور انصاف میں تاخیر کا باعث بنتا ہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ ٹرائل کے حق کے منافی ہے۔عدالت نے وکلا ء کو سختی سے متنبہ کیا کہ بلاجواز التوا کی درخواستیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ آئندہ ایسی درخواستوں پر جرمانے اور دیگر قانونی اقدامات کئے جائیں گے۔
عدالت نے زور دیا کہ التوا کوئی حق نہیں بلکہ ایک استثنائی رعایت ہے جو صرف ناگزیر اور حقیقی وجوہات کی بنیاد پر دی جا سکتی ہے۔
