پاکستان نے شہری اموات بارے بھارت اور افغانستان کے الزامات کو مسترد کر دیا

09 June 2026 | 11:46

اقوام متحدہ۔:پاکستان نے افغانستان کے خلاف حملوں اور بڑے پیمانے پر شہری اموات سے متعلق بھارت اور افغانستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام کارروائیاں صرف دہشت گردوں اور ان کی عسکری معاونت کے مراکز کے خلاف کی گئیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس میں جواب دینے کے حق کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں صرف ان دہشت گردوں اور عسکری معاونت کے مراکز کے خلاف تھیں جو طالبان حکومت کی سرپرستی میں سرحد پار حملوں کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مارچ میں کی گئی کارروائیوں میں ڈرون کے ذخائر، تکنیکی معاونت کے مراکز اور اسلحہ گوداموں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے انتہائی درست، سوچے سمجھے اور پیشہ ورانہ انداز میں کیے گئے اور کسی ہسپتال، منشیات بحالی مرکز یا شہری تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

اجلاس میں بھارت کی نمائندگی پرونتھانینی ہریش نے کی جبکہ افغانستان کی جانب سے سابق حکومت کے مقرر کردہ نمائندے نصیر احمد فائق نے خطاب کیا۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ نصیر احمد فائق موجودہ افغان حکومت کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ اپنی ذاتی حیثیت میں بات کر رہے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کا مقصد انسانی امداد اور ترقیاتی تعاون کی آڑ میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے دہشت گرد گروہوں کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی طالبان حکومت سے بنیادی توقعات میں جامع حکمرانی، انسانی حقوق، خواتین اور بچیوں کے حقوق کا تحفظ اور انسداد دہشت گردی شامل ہیں تاکہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے طالبان کے لیے اچانک پیدا ہونے والی ہمدردی کو سننا حیران کن ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی تبدیلی پاکستان کی کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں افغانستان کے اندر موجود ایسے دہشت گرد ٹھکانوں اور کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا جو بھارت کی فعال حمایت سے کام کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی مندوب نے ایک مرتبہ بھی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) یا بلوچستان لبریشن آرمی ’’فتنہ الہندستان‘‘ کی مذمت نہیں کی حالانکہ یہ گروہ معصوم پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہمیں اس پر بالکل حیرت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے لیے یہ یقیناً پریشانی کا باعث ہوگا کہ اس کا دہشت گردی کا ڈھانچہ افغانستان میں پاکستان کی بہادر سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ختم اور تباہ کیا جا رہا ہے۔ ہماری افواج اپنے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام جاری رکھیں گی

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دوسروں کو بین الاقوامی قانون کی پابندی اور انسانی اصولوں کا احترام کرنے کا مشورہ دینا ’’مضحکہ خیز‘‘ہے۔ حقیقت میں بھارت خود مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کئی دہائیوں سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں میں ملوث رہا ہے، جن میں بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ، اقلیتوں کے حقوق کے مسائل اور سرحد پار دہشت گردی کی حمایت شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کا بھی مرتکب ہے۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنےکا اعلان کرکے اس کی خلاف ورزی کی ہے حالانکہ اس اقدام کے لیے نہ کوئی معقول وجہ موجود ہے، نہ کوئی قانونی جواز۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ فیصلہ معاہدے کی شقوں اور بین الاقوامی قانون دونوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان بھارت کے عزائم سے بخوبی آگاہ ہے اور کسی بھی ایسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گا جو دہشت گردی کو فروغ دے یا پاکستان کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچائے۔ ■