سوئی سدرن گیس کی ناقص کارکردگی،ایف بی ایریا کی گیس بحال کرنے میں ناکام

18 June 2026 | 11:58

کراچی۔: سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے15 روز سے زائد وقت گزرنے کے باوجود کراچی کے علاقے ایف بی ایریا نصیرآباد بلاک 14 کی گیس بحال نہیں کی جس کی وجہ سے علاقہ مکنیوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

گیس کی طویل بندش کی وجہ سے لوگ روزانہ کی بنیاد پر ہوٹلوں سے کھانا خریدنے پر مجبور ہیں کیونکہ صبح ہو، دوپہر یا پھر رات علاقہ مکین گیس کا انتظار کرتے رہ جاتے ہیں مگر چولہوں میں گیس نہیں آتی۔چھوٹے بچے نہ ناشتہ کرپاتے ہیں، نہ دوپہر کا کھانا اور نہ رات کا کھانا گھروں میں پک پاتا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری سوئی سدرن گیس کمپنی کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔
ایف بی ایریا بلاک 14 نصیرآباد کے گیس متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے ہیلپ لائن نمبر1199پر شکایات درج کرا کر ا کر تھک گئے ہیں جہاں سے یہ جواب ملتا ہے کہ آپ کا مسئلہ 24 سے 48 گھٹوں میں حل کر دیا جائے گا اور ایس ایس جی سی کی ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی مگر آج 15روز گزر جانے کے باوجود بھی نہ گیس بحال ہوئی اور نہ ہی ایس ایس جی سی کی ٹیم نے رابطہ کیا۔
گیس متاثرین نے نشاندہی کی کہ 15روز قبل 1199 پر درج کروائی گئی شکایت کا اسٹیٹس جاننے کے لیے ایس ایس جی سی کی ہیلپ لائن پر جب رابطہ کیا گیا تو یہ حیرت انگیز انکشاف کیا گیا کہ آپ کی شکایت تو دوسرے دن ہی دور کردی گئی تھی اور سسٹم نے آپ کی شکایات کو کینسل کردیا ہے لہٰذا اگر اب بھی آپ کی شکایت برقرار ہے تو دوبارہ شکایت درج کروائیں۔ گیس متاثرین نے سوال اٹھایا کہ جب علاقے کی گیس بحال ہی نہیں ہوئی تو سسٹم نے شکایت کو حل کیے بغیر کیسے کینسل کردیا جو یقینی طور پر سوئی سدرن گیس کی بدترین کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔
ایف بی ایریا بلاک 14نصیرآباد کے گیس متاثرین نے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک سے پرزور اپیل کی کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کراچی کی غفلت کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے علاقے کی گیس بحال کی جائے اور صارفین کی شکایات سے بے اعتنائی پر ایس ایس جی سی کے ذمہ دار اہلکاروں بشمول عائشہ منزل کسٹمر سنٹر کی انچارج اور ٹیکنیکل ٹیم کے خلاف سخت محکمہ جاتی کارروائی کی جائے تاکہ ایس ایس جی سی اہلکار تنخواہیں لینے کے ساتھ ساتھ اپنی ڈیوٹی بھی ایمانداری سے انجام دے سکیں۔