پاکستان موسمیاتی ریڈار نیٹ ورک کو وسعت دے کر پورے ملک کی کوریج کو یقینی بنا رہا ہے،پی ایم ڈی

24 May 2026 | 09:21

اسلام آباد۔: پاکستان پورے ملک کو ریڈار کوریج کے تحت لانے کے لیے اپنے موسمی ریڈار نیٹ ورک کو بڑھا اور اسے اپ گریڈ کر رہا ہے۔

ویلتھ پاکستان سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی )کے ترجمان نے کہا کہ پی ایم ڈی شدید موسمی حالات کی نگرانی کے لیے جدید ریڈار ٹیکنالوجی کو اپنا رہا ہے جس میں سیلاب، گرج چمک، شدید بارش اور سمندری طوفان شامل ہیں جو پیش گوئی کرنے والوں کو بروقت الرٹ جاری کرنے اور جان و مال کے تحفظ میں مدد فراہم کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ محکمہ اس وقت اسلام آباد، کراچی، مردان اور سیالکوٹ میں جدید ریڈار سسٹم چلا رہا ہے جبکہ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے تعاون سے ملتان میں ایک نیا ریڈار نصب کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ منصوبوں کی تکمیل کے بعد پاکستان کے تقریباً تمام علاقے ریڈار کی کوریج میں آجائیں گے جس سے ملک کے موسمی پیشن گوئی کے ماڈلز اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

سسٹم کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور کراچی میں پی ایم ڈی کے ہیڈ کوارٹر میں 13 منزلہ ریڈار ٹاور پہلے ہی جاپان کی مالی مدد سے تعمیر کیے جا چکے ہیں، وہاں نصب ایس بینڈ سالڈسٹیٹ ریڈار تقریباً 450 کلومیٹر کے دائرے میں موسمی سرگرمیوں کی نگرانی کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ریڈار بارش کی شدت، بادلوں کی تشکیل، ہوا کی رفتار، ہوا کی سمت اور طوفان کی نقل و حرکت کے بارے میں حقیقی وقت میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریڈار سسٹم ہر 10 منٹ میں موسم کے ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کرتا ہے جس سے پیش گوئی کرنے والوں کو موسمی نظام کو قریب سے ٹریک کرنے اور ہر چند گھنٹے بعد الرٹ جاری کرنے کی سہولت ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ریڈار ایک ناؤ کاسٹنگ ٹول کے طور پر کام کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نظام بڑے پیمانے پر سیلاب کی پیش گوئی، بارش کے تخمینے اور ڈیموں اور دریا کے کیچمنٹ میں بہاؤ کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے ریڈار نیٹ ورک میں ایس بینڈ، سی بینڈ اور ایکس بینڈ سسٹم شامل ہیں ہر ایک کو ٹپوگرافی اور موسم کی ضروریات کے مطابق منتخب کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، اسلام آباد اور کراچی کے ریڈار ایس بینڈ سسٹم ہیں جن کی کوریج 450 کلومیٹر تک ہے جبکہ مردان میں ایکس بینڈ ریڈار تقریباً 120 کلومیٹر پر محیط ہے اور بنیادی طور پر وادی کے مشاہدے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

سیالکوٹ میں سی بینڈ ریڈار جو تقریباً 350 کلومیٹر پر محیط ہےجو بھارتی کیچمنٹ کے علاقوں سے داخل ہونے والے مون سون کے نظام کو ٹریک کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ریڈار خاص طور پر بحیرہ عرب پر سمندری موسمی سرگرمیوں اور طوفان کے نظام کی نگرانی کے لیے اہم ہے۔

ترجمان نے کہا کہ محکمہ کے پاس پہلے صرف پانچ ریڈار سسٹم تھے جن میں سے کئی پرانے ہو چکے ہیں۔ پرانا اسلام آباد ریڈار اپنی 30 سالہ آپریشنل زندگی مکمل کر چکا تھا جسے جدید ترین جاپانی سپورٹڈ سسٹم سے تبدیل کیا گیا۔

ریڈار ٹیکنالوجی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف بارش کے گیجز وسیع خطوں میں موسم کی حقیقی معلومات فراہم نہیں کر سکتے ہیں جبکہ جدید ریڈار سسٹم سینکڑوں کلومیٹر پر موسم کی سرگرمیوں کو فوری طور پر مانیٹر کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریڈار کا ڈیٹا ملک کے ہوائی اڈوں اور ہوابازی کے حکام کے ساتھ بھی شیئر کیا جاتا ہے جہاں پی ایم ڈی کا عملہ چوبیس گھنٹے موسمی حالات پر نظر رکھتا ہے اور پائلٹوں کو پرواز کے راستوں پر کسی بھی خطرناک سرگرمی کے بارے میں حقیقی وقت میں بریفنگ دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن بھی کیچمنٹ ایریاز کی نگرانی اور سیلاب کی وارننگ جاری کرنے کے لیے ریڈار نیٹ ورک کا استعمال کرتا ہے۔

ترجمان نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ملتان پراجیکٹ کی تکمیل اور دیگر شہروں تک توسیع کی منصوبہ بندی کے ساتھ پاکستان کی موسم کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیتیں موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے کہیں زیادہ درست اور موثر ہو جائیں گی۔