فیڈرل بی ایریا بلاک14 نصیر آباد کے مکین دربدر، وزیر پیٹرولیم سے ایک ماہ سے بند گیس بحال کرنے کی اپیل کردی
کراچی۔ سوئی سدرن گیس کمپنی نے گھریلو صارفین کی گیس بند کرکے کمرشل بنیادوں پر گیس کی فراہمی کو اپنی ترجیح بنا لی اور کراچی کے متعدد علاقوں خاص طور پر فیڈرل بی ایریا، نصیر آباد، بلاک 14 کو ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے گیس کی فراہمی بند کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے علاقہ مکین ہوٹلوں سے تین وقت کا کھانا خرید کر اپنے بیوی، بچوں کی بھوک مٹانے پر مجبور ہیں جبکہ کئی گھرانے ایسے ہیں جو روزانہ ہوٹل سے کھانا خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے جس کی وجہ سے انہیں بعض گھروں کو فاقوں کی نوبت آگئی ہے۔ ایف بی ایریا، بلاک 14، نصیر آباد کے مکینوں نے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی درمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی غفلت اور گھریلو صارفین کو بلاتعطل گیس فراہمی کو ترجیح نہ دینے کا سختی سے نوٹس لیں اور اس سنگین غفلت پر ایس ایس جی سی کے اعلیٰ افسران بشمول ٹیکنیکل ٹیموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کو ارسال کردہ اپیل میں علاقہ مکینوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مسلسل گیس بندش کے باعث روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ گھروں میں کھانا پکانا ممکن نہیں رہا، آخر کب تک ہم ہوٹلوں سے کھانا خریدتے رہے ہیں۔متاثرین کا کہنا ہے کہ ہم محدود آمدنی میں بجلی، گیس کے بل ادا کریں، روزی روٹی کمائیں یا پورے دن ہوٹلوں پر کھانے کے لیے لائنوں میں لگے رہیں۔
وفاقی وزیر کی وجہ اس جانب بھی مبذول کروائی گئی کہ متاثرین نے ایس ایس جی سی کی ہیلپ لائن 1199 پر متعدد بار شکایات درج کرائیں لیکن ہر مرتبہ 24 سے 48 گھنٹوں میں مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کے باوجود گیس بحال نہیں کی گئی بلکہ جب شکایات کا اسٹیٹس معلوم کیا گیا تو بتایا کہ ٹیکنیکل ٹیم نے آپ کی شکایت حل شدہ قرار دے کر کلوز کردی ہے حالانکہ ٹیکنیکل ٹیم نے کسی ایک شکایت کنندہ سے رابطہ نہیں کیا اور شکایات کو کلیئر قرار دے رہے ہیں جبکہ علاقے میں گیس کی فراہمی تاحال معطل ہے۔ اگر شکایات کو مسئلہ حل کیے بغیر ہی حل شدہ ظاہر کیا جاتا رہے گا تو شکایات کے ازالے کے نظام کی شفافیت بھی سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
متاثرہ مکینوں نے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی درمندانہ اپیل کی کہ ایف بی ایریا، نصیر آباد، بلاک 14 میں گیس کی فوری بحالی کے احکامات جاری کیے جائیں، ایس ایس جی سی کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے، شکایات کو حل کیے بغیر بند کرنے کے ذمہ دار اہلکاروں، بشمول عائشہ منزل کسٹمر سینٹر کے انچارج اور ٹیکنیکل عملے کے خلاف صارفین کو گیس فراہمی جان بوجھ کر معطل رکھنے پر محکمانہ کارروائی کی جائے۔علاقہ مکینوں نے وفاقی وزیر پیٹرولیم سے امید ظاہر کی کہ وہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے گیس بند ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے سوئی سدرن گیس کمپنی کو علاقے کی گیس فوری بحال کرنے کی ہدایات جاری کریں گے تاکہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے معطل گیس بحال ہو سکے۔
