سابقہ اہلیہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم کی ضمانت کی درخواست واپس، سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابقہ اہلیہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم صفدر عرفان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے ملزم کو ضمانت نہیں دی جا سکتی، جس کے بعد ملزم کے وکیل نے درخواست واپس لے لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے منگل کو درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ کیا ایف آئی آر کو لوگوں میں پڑھنے کی ہمت ہے؟
انہوں نے کہا کہ ملزم نے خاتون کو ملک میں رہنے کے قابل نہیں چھوڑا، جبکہ خاتون کی شائستگی ہی اس کا پردہ ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزم نے ایک مقدس رشتے کو پامال کیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اپنی ہی اہلیہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئیں جبکہ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ملزم نے انتہائی غیر اخلاقی کام کیا اور طلاق لینے پر سابقہ بیوی کے خلاف یہ سب کچھ کیا۔
ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ خاتون اس وقت دبئی میں مقیم ہیں اور ملزم گزشتہ چھ ماہ سے جیل میں ہے۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ملزم کو تو ساری زندگی اندر رہنا چاہیے، اس نے کون سا اچھا کام کیا ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ملزم کے قبضے سے موبائل فون برآمد ہوا ہے اور ایسے ملزم کو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت کی جانب سے ضمانت مسترد کیے جانے کے واضح عندیے کے بعد ملزم کے وکیل نے درخواست واپس لے لی، جس پر عدالت نے کارروائی نمٹا دی۔tca
