وزیر خزانہ کی زیر صدارت ایکسیس ٹو فنانس اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس، ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ فنانس میں پیش رفت کا جائزہ

10 August 2026 | 13:30

اسلام آباد-: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزیراعظم کے ایکسیس ٹو فنانس پلان 2026-2028ء پر تیز رفتار عملدرآمد کے لیے قائم ایکسیس ٹو فنانس اسٹیئرنگ کمیٹی کے دوسرے اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں ایکسیس ٹو فنانس پلان پر پیش رفت کا جامع جائزہ لیا گیا جبکہ ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ فنانس سے متعلق ذیلی کمیٹیوں کی رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔

اجلاس میں ترجیحی شعبوں میں مالیاتی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے، قانونی اور مالیاتی ڈیٹا سے متعلق معاملات کو آسان بنانے اور قرضوں کی فراہمی میں تیزی لانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔

کمیٹی کو ہول سیل فنانسنگ کے مجوزہ فریم ورک پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ فریم ورک بینکوں کے ساتھ ان کی تجاویز کے لیے شیئر کیا جائے گا اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد اسے حتمی شکل دی جائے گی۔

کمیٹی نے مجوزہ طریقہ کار میں مناسب کنٹرولز اور واضح قواعد وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا، خصوصاً ان معاملات میں جہاں حکومت کی معاونت شامل ہو۔

اجلاس میں ایس ایم ای، زرعی اور ہاؤسنگ فنانس سے متعلق ڈیش بورڈز اور پیش رفت کے اشاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو مختلف مالیاتی اقدامات کے تحت جمع کیے جانے والے ڈیٹا اور ہفتہ وار بنیادوں پر پیش رفت کی نگرانی کے لیے ڈیش بورڈز کے استعمال سے آگاہ کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے ایکسیس ٹو فنانس سے متعلق اہم اقدامات کی مؤثر نگرانی کے لیے ڈیش بورڈز کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔اجلاس میں زرعی فنانس میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

فصلوں کی انشورنس کوریج مضبوط بنانے کے لیے کراپ لون انشورنس اسکیم (CLIS) کو ایریا ییلڈ انشورنس کی جانب بہتر بنانے کی کوششوں پر غور کیا گیا، جس سے کسانوں کو انشورنس ادائیگیوں تک بہتر رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

کمیٹی نے زرعی قرضوں کی فراہمی اور کاشتکاروں تک مالیاتی سہولیات کا دائرہ وسیع کرنے کی کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔ اجلاس میں بینکوں، این بی ایف آئیز اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بہتر رابطہ، جبکہ کاشتکاروں کے لیے فنانسنگ اور ادائیگی کے طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
سستی ہاؤسنگ فنانس بھی اجلاس کا اہم موضوع رہا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام — گھر ہو تو اپنا کے تحت جولائی تک تقریباً 34.27 ارب روپے کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے، جبکہ بینکوں کی جانب سے 220.68 ارب روپے سے زائد کے قرضے منظور کیے جا چکے ہیں اور ان کی رقم جاری کیے جانے کے لیے تیار ہے۔

اجلاس میں ہاؤسنگ فنانس کو مزید آسان بنانے کے لیے زمین اور جائیداد کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، ملکیتی دستاویزات کی تصدیق اور رہن کی بنیاد پر قرضوں کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے ہاؤسنگ فنانس کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ڈویلپرز کے ساتھ رابطے، جائیداد کی ملکیت کی زیادہ واضح اور مؤثر و قابلِ تصدیق ملکیتی دستاویزات کے عوض فنانسنگ کی سہولت فراہم کرنے کے طریقہ کار پر بھی غور کیا۔

اجلاس میں پائیدار ہاؤسنگ فنانس کے فروغ کے لیے مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور اہم ساختی قانون سازی کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا گیا۔اجلاس میں پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن (PAVE) پروگرام پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ اب تک 1,200 سے زائد الیکٹرک بائیکس صارفین کو فراہم کی جا چکی ہیں۔کمیٹی نے الیکٹرک گاڑیوں اور برقی نقل و حرکت کے لیے فنانسنگ کی سہولیات مزید بہتر بنانے کے اقدامات پر غور کیا۔

اس پروگرام کا مقصد نئی انرجی وہیکل پالیسی 2030ء (NEV Policy 2030) کے تحت ملک میں برقی گاڑیوں کے فروغ، ایندھن کی درآمدات میں کمی، صارفین کے طویل مدتی اخراجات میں کمی اور ماحولیاتی بہتری کے حکومتی اہداف کو آگے بڑھانا ہے۔

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ایکسیس ٹو فنانس پلان کے اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (PBA) اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیئرنگ کمیٹی کا کردار عملدرآمد میں حائل مسائل کو حل کرنے اور ایکسیس ٹو فنانس پلان کے اہداف کے حصول کے لیے رفتار برقرار رکھنے میں اہم ہے۔

اجلاس میں وفاقی سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، چیئرمین پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، چیف ایگزیکٹو آفیسر کرانداز پاکستان اور وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے سینئر حکام نے شرکت کی۔