زرعی مداغل کے متناسب استعمال سے سویا بین اور مکئی کی پیداوار میں دوگنا اضافہ ممکن
اسلام آباد۔: پنجاب میں کاشت کے جدید زرعی طریقوں اور زرعی مداغل کے متناسب ے استعمال سے سویا بین اور مکئی کی پیداوار میں دوگنا اضافہ ممکن ہے ۔
جامعہ زرعیہ فیصل آباد کی سویابین کی تحقیقاتی لیب کے انچارج پروفیسر ڈاکٹر ظہیر احمد نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں سویا بین کی درآمدات میں خرچ ہونے والے قیمتی زرمبادلہ کی بچت کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس سے آئندہ تین تا پانچ سال کے دوران سویا بین کی مقامی پیداوا ر میں خاطر خواہ اضافہ کو یقینی بنایا جائیگا ۔
انہوں نے کہاکہ اس وقت پنجاب کے مختلف اضلاع میں نان جی ایم او سویا بین کی مختلف اقسام کی کمرشل بنیادوں پر کاشت کی جا رہی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ قصور ،اوکاڑہ ،ساہیوال ، لودھراں ، خانیوال اور بہاولپور سمیت مختلف اضلاع میں بہتر معیار کے بیجوں سے کاشت کاری کی جا رہی ہے جو زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی تحقیقات کے بعد مقامی موسم اور ماحول کے مطابق تیار کئے گئےہیں ۔
ڈاکٹر ظہیر احمد نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں سویا بین کی اوسط پیداوار 25 تا 30 من حاصل کی جا رہی ہے تاہم ساہیوال اور اوکاڑہ کے اضلاع میں جدید کاشت کاری سے فی ایکڑ پیداوار 40 من سے زیادہ حاصل کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے تحقیق کاروں نے مکئی کی مختلف اقسام کے نئے بیج تیار کئےہیں جس سے مکئی کی پیداوار 25 تا 30 من فی ایکڑکے مقابلہ میں 50 من فی ایکڑ سے زیادہ تک بڑھائی جا سکتی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ ان اقدامات کا مقصد پاکستان کے قیمتی زرمبادلہ کی بچت کے علاوہ سویا بین کی درآمدات پر انحصار میں بھی کمی لانا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سویا بین کی درآمدات سے سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر سے زیادہ کے اخراجات کرتا ہے تاکہ پولٹری ،ڈیری اور لائیو سٹاک وغیرہ کے شعبوں کیلئے پروٹین کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ انہوں نے کہاکہ سویا بین اور مکئی کی مقامی پیداوار میں اضافہ سے درآمدات پر انحصار کم ہوگا ۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے آئندہ تین سال کے دوران صوبہ میں سویا بین کے زیر کاشت رقبہ کو 1.5 تا 2 ملین ایکڑ تک کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ڈاکٹر ظہیر احمد نے کہا کہ زرعی یوینورسٹی فیصل آباد کی سویا بین تحقیقاتی لیب کلائیمیٹ سمارٹ اور ہائی نیوٹریشنل بیجوں کی تیاری پر توجہ دے رہی ہے جبکہ یونیورسٹی کاشتکاروں ، تعلیمی اداروں اور صنعتوں میں روابط کے فروغ کیلئے بھی کردار ادا کر رہی ہے تاکہ قومی غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
