پاکستان کے 79 مخصوص اضلاع میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم کا آغاز

پاکستان کے 79 مخصوص اضلاع میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم کا آغاز
18 May 2026 | 04:35

اسلام آباد۔: حکومتِ پاکستان کی قیادت میں نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسدادِ پولیو نے (آج )سے ملک بھر کے 79 منتخب ہائی رسک اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ مہم پولیو کے مکمل خاتمے اور لاکھوں بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے قومی سطح پر جاری مربوط کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔یہ مہم 18 تا 24 مئی تک جاری رہے گی، جس کا مقصد پانچ سال سے کم عمر تقریباً 1 کروڑ 90 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔

اس قومی مہم کے دوران 1 لاکھ 60 ہزار سے زائد تربیت یافتہ فرنٹ لائن ورکرز ملک بھر میں گھر گھر جا کر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہر بچے کو زندگی بھر معذوری سے محفوظ رکھنے والی یہ ویکسین فراہم کی جائے۔یہ مہم پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت منعقد کی جا رہی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعاون اور دنیا کے آخری باقی ماندہ علاقوں میں پولیو وائرس کے خاتمے کے مشترکہ عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

صوبائی سطح پر پنجاب کے 10 مخصوص اضلاع میں 61 لاکھ 90 ہزار بچوں، سندھ کے 20 مخصوص اضلاع میں 57 لاکھ 90 ہزار بچوں، خیبر پختونخوا کے 23 مخصوص اضلاع میں 46 لاکھ 10 ہزار بچوں جبکہ بلوچستان کے 25 مخصوص اضلاع میں 19 لاکھ 90 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

اسلام آباد میں بھی 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو اس مہم کے دوران ویکسین دی جائے گی۔پاکستان میں پولیو کے خلاف جدوجہد نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ جب 1994 میں قومی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کیا گیا تو ملک میں سالانہ 20,000 سے زائد کیسز رپورٹ ہوتے تھے۔

دہائیوں پر محیط مسلسل ویکسینیشن مہمات، مضبوط نگرانی کے نظام اور مربوط اقدامات کی بدولت ملک نے اس بیماری کے بوجھ میں نمایاں کمی حاصل کی ہے۔یہ پیش رفت مثبت نتائج کی عکاس ہے۔ پاکستان میں سال 2025 کے دوران 31 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2026 میں اب تک صرف 3 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ یہ نمایاں کمی ملک میں پولیو کے خاتمے کی جانب مضبوط پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے۔

صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں وائرس اب بھی خاموشی سے گردش کر رہا ہے، جس کے پیش نظر مسلسل ویکسینیشن کی کوششیں ناگزیر ہیں۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے اپنے بیان میں کہاکہ “پاکستان پولیو سے پاک مستقبل کی جانب اپنے سفر کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگرچہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے، تاہم ہر وہ بچہ جو ویکسین سے محروم رہ جاتا ہے، وائرس کے زندہ رہنے اور پھیلنے کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے۔

صحت کے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بار بار ویکسینیشن انتہائی ضروری ہے، کیونکہ ہر خوراک بچے کی قوتِ مدافعت کو مزید مضبوط بناتی ہے اور وائرس کی منتقلی کو روکنے میں مدد فراہم کرتی ہے، خاص طور پر زیادہ خطرے سے دوچار اور نقل و حرکت کرنے والی آبادیوں میں۔

حکومتِ پاکستان نے جی پی ای آئی کے شراکت دار اداروں، جن میں عالمی ادارۂ صحت، یونیسیف، سی ڈی سی، روٹری انٹرنیشنل اور گیٹس فاؤنڈیشن شامل ہیں، کے مسلسل تعاون کو سراہا ہے۔

حکومت نے کہا کہ صوبائی حکومتوں، فرنٹ لائن ورکرز، سیکیورٹی اہلکاروں، کمیونٹی رہنماؤں اور مقامی شراکت داروں کی مشترکہ کوششیں ہر بچے تک رسائی کے ہدف کے حصول میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کا اپنے گھروں میں خیرمقدم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں۔نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے مسلسل اقدامات، مؤثر رسائی اور اجتماعی ذمہ داری کے ذریعے پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

انسدادِ پولیو مہم سے متعلق معلومات کے لیے شہری پولیو ہیلپ لائن 1166 پر رابطہ کر سکتے ہیں یا واٹس ایپ ہیلپ لائن 03467776546 پر واٹس ایپ پیغام بھیج سکتے ہیں۔