ای وی پالیسی کے تحت نئی سبسڈی اسکیم منظور، پوزیشن ہولڈر طلبہ کو بھی مفت الیکٹرک بائیکس دی جائیں گی

06 May 2026 | 05:31

اسلام آباد۔: وفاقی حکومت نے نئی انرجی وہیکلز پالیسی 2025–30 کے تحت پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن پروگرام کے دوسرے مرحلے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت الیکٹرک بائیکس، لوڈرز اور رکشے ’’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘‘ کی بنیاد پر تقسیم کیے جائیں گے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مالی سال 2025–26 کے لیے 9 ارب روپے کے پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔
نیوز ویب سائٹ کے مطابق یہ اسکیم این ای وی ایڈاپشن لیوی ایکٹ 2025 کے تحت ریونیو نیوٹرل ماڈل پر چلائی جائے گی۔ رواں مالی سال کے لیے مجموعی ہدف 119170 گاڑیوں کا ہے، جن میں 116000 الیکٹرک بائیکس اور 3170 رکشے و لوڈرز شامل ہیں۔ پہلے پائلٹ مرحلے میں 41000 گاڑیوں کی تکمیل کے بعد دوسرے مرحلے میں ہدف 76000 الیکٹرک بائیکس اور 2170 رکشے و لوڈرز مقرر کیا گیا ہے۔
توقع ہے کہ ای سی سی تین ماہ کے اندر ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس کی تیز رفتار فراہمی کی اضافی منظوری بھی دے گی۔ اس پروگرام کے لیے مقامی طور پر دستیاب اور زیرِ ترسیل تقریباً 130,000 سی کے ڈی کٹس استعمال کی جائیں گی۔ ہر الیکٹرک بائیک پر 80,000 روپے کی مقررہ سبسڈی دی جائے گی جو براہ راست پری کوالیفائیڈ او ای ایمز کو ادا کی جائے گی جبکہ تقسیم 500 یونٹس کے 200 بیچز میں کی جائے گی۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے قلیل مدت میں تقریباً 8.6 ملین لیٹر پیٹرول کی بچت ہوگی جس کی مالیت تقریباً 8 ملین امریکی ڈالر بنتی ہے جبکہ پانچ سال میں یہ بچت 222 ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، حکومت 2025 کے ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ امتحانات میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ میں 600 مفت الیکٹرک بائیکس تقسیم کرے گی، اس اقدام پر تقریباً 150 ملین روپے لاگت آئے گی۔
پہلے مرحلے میں تاخیر اور مسائل کے پیش نظر اسٹیئرنگ کمیٹی نے قرعہ اندازی کے نظام کو ختم کر کے ’’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘‘ کا طریقہ اپنانے کی سفارش کی ہے جس میں پہلے مرحلے کے ویٹ لسٹ امیدواروں کو درخواست کے وقت کے مطابق ترجیح دی جائے گی۔
سبسڈی کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب خریدار مکمل رقم پیشگی ادا کرنے کے بجائے سبسڈی کٹوتی کے بعد باقی قیمت ادا کریں گے جبکہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ تصدیق کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے سبسڈی منتقل کرے گا۔
وفاقی ملازمین (گریڈ 16 اور اس سے کم) کے لیے خود مالی اعانت اسکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت بائیک کے لیے کم از کم 10 ہزار روپے اور رکشے کے لیے ایک لاکھ روپے ڈاؤن پیمنٹ ہوگی جبکہ باقی رقم 6 سے 18 ماہ میں بغیر سود تنخواہ سے کٹوتی کے ذریعے وصول کی جائے گی۔
پروگرام تک رسائی میں ادارہ جاتی فنانسنگ، ہاؤسنگ سے منسلک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس، اوورسیز پاکستانی، ایس ای سی پی سے رجسٹرڈ این بی ایف سی اور فلیٹ آپریٹرز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
لازمی 100 فیصد تھرڈ پارٹی ویریفکیشن کے نظام کو ختم کر کے رسک بیسڈ ویریفکیشن ماڈل متعارف کرایا گیا ہے جس میں بائیومیٹرک تصدیق، تصویری شواہد اور پروگرام پورٹل کے ذریعے ڈیجیٹل ویلیڈیشن شامل ہوگی۔ یہ تبدیلی پہلے مرحلے میں ویریفکیشن پر آنے والی زیادہ لاگت کے پیش نظر کی گئی ہے۔
عملدرآمد کے لیے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ 14 رکنی خصوصی یونٹ قائم کرے گا جس کی سالانہ لاگت 32.76 ملین روپے ہوگی، جبکہ مالی سال 2025–26 کے لیے 37 ملین روپے آپریشنل اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
پہلے مرحلے میں 269,149 درخواستیں موصول ہوئیں، جہاں محدود بینکاری منظوریوں کے باوجود طلب زیادہ رہی۔ تاہم خود مالی اعانت کے شعبے میں 99.6 فیصد ڈیلیوری کی کامیابی حاصل کی گئی۔