وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، اپلائی کرنے کا طریقہ اور دیگر تفصیلات جاری
اسلام آباد: حکومت پاکستان نے کم اور متوسط آمدنی والے طبقات کو ذاتی رہائش کی سہولت فراہم کرنے کیلئے ’’وزیراعظم اپنا گھر پروگرام ‘‘ کا باقاعدہ اجرا کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت شہریوں کو گھروں کی تعمیر یا پلاٹ اور گھر کی خریداری کیلئے رعایتی قرضے فراہم کیے جائیں گے جسے ہاؤسنگ سیکٹر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ اسکیم چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے تمام شہریوں کیلئے ہے۔ پروگرام خاص طور پر ایسے افراد کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے جو پہلی بار اپنا گھر بنانا یا خریدنا چاہتے ہیں اور پہلے سے کسی رہائشی پراپرٹی کے مالک نہیں ہیں۔
قرض کی حد اور مالی شرائط
اس پروگرام کے تحت شہریوں کو 10 مرلہ تک کے گھر یا پلاٹ کیلئے زیادہ سے زیادہ 10 ملین روپے (ایک کروڑ روپے) تک کا قرض فراہم کیا جائے گا۔
مارک اپ : ابتدائی 10 سال کیلئے 5 فیصد مارک اپ مقرر کیا گیا ہے جبکہ اس کے بعد کی مدت پر ریگولر مارک اپ عائد ہو گا۔
واپسی کی مدت: قرض کی واپسی کیلئے زیادہ سے زیادہ مدت 20 سال مقرر کی گئی ہے۔
اقساط: قرض کی واپسی کیلئے آسان ماہانہ بنیادوں پر اقساط کا طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔
فنانسنگ ماڈل: فنانسنگ ماڈل کے تحت 90 فیصد قرض حکومت پاکستان فراہم کرے گی جبکہ 10 فیصد درخواست دہندہ کا حصہ ہے تاہم ٹوٹل قرض کی واپسی درخواست دہندہ کے ذمہ ہو گی۔
یہ قرض درج ذیل مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکے گا:
نئے گھر کی تعمیر
تیار شدہ گھر کی خریداری
گھر کی تعمیر کیلئے پلاٹ کی خریداری
نامکمل مکان کی تکمیل (بینک کی شرائط کے مطابق)
اہلیت کا معیار
پروگرام سے استفادہ کیلئے درج ذیل بنیادی شرائط رکھی گئی ہیں:
درخواست دہندہ کا پاکستانی شہری ہونا لازمی ہے۔
درخواست دہندہ قومی شناختی کارڈ کا حامل ہو۔
درخواست دہندہ پہلے سے کسی گھر یا فلیٹ کا مالک نہ ہو۔
درخواست دینے کا طریقہ کار
درخواست دہندگان اس اسکیم کیلئے ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی سمیت ملک کے مختلف کمرشل بینکوں کے ذریعے اپلائی کر سکتے ہیں، جن میں حبیب بینک، نیشنل بینک آف پاکستان، یو بی ایل اور الائیڈ بینک سمیت تمام دیگر شیڈولڈ بینک شامل ہیں۔
درخواست کے ساتھ شناختی دستاویزات، آمدنی کے ثبوت اور دیگر مطلوبہ کاغذات جمع کروانا ہوں گے۔ بینک درخواست کی جانچ کے بعد قرض کی منظوری دے گا۔
حکومت نے پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں50 ہزار گھروں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا ہے اور اس کیلئے تقریباً 321 ارب روپے کی فنانسنگ مختص کی گئی ہے
معاشی اور سماجی اثرات
ماہرین کے مطابق اس پروگرام کے متعدد مثبت اثرات متوقع ہیں:
ہاؤسنگ کی کمی میں کمی
کرایہ دار طبقے کو مستقل رہائش کی فراہمی
تعمیراتی صنعت اور متعلقہ شعبوں (سیمنٹ، اسٹیل، مزدوری) میں اضافہ
روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونا
بینکنگ سیکٹر میں ہاؤسنگ فنانس کا فروغ
اہم نکات
قرض کی منظوری بینک کی پالیسی اور درخواست دہندہ کی مالی حیثیت سے مشروط ہوگی۔
مارک اپ کی شرح پہلے 10 سال کیلئے مقرر ہے، بعد ازاں شرح میں تبدیلی ممکن ہو سکتی ہے ۔
جائیداد کی تصدیق اور قانونی دستاویزات کی جانچ لازمی ہوگی۔
مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے شہری سرکاری ویب سائٹ سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
حکومتی حکام کے مطابق ‘’اپنا گھر پروگرام‘‘ نہ صرف رہائش کے مسائل کے حل کی جانب ایک عملی قدم ہے بلکہ اس سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنے اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری آنے کی بھی توقع ہے۔
