عدالتی نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے قومی رہنما اصولوں کا اجرا
اسلام آباد۔: نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی (این جے پی ایم سی) نے عدالتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے متعلق قومی رہنما اصول جاری کر دیئے ہیں۔
سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق کمیٹی کے 57ویں اجلاس میں منظور ہونے والے ان رہنما اصولوں کا مقصد عدالتی عمل میں ٹیکنالوجی کے موثر اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے واضح اور اصولی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔
رہنما اصولوں کے مطابق مصنوعی ذہانت کو ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے گا جو عدالتی کارکردگی میں بہتری لانے میں مدد دے گا تاہم فیصلہ سازی کا حتمی اختیار ججز کے پاس ہی رہے گا اور آئینی تقاضوں، عدالتی آزادی اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ رہنما اصولوں کے تحت اے آئی کے استعمال میں شفافیت، احتساب اور تعصب سے پاک نظام کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے جبکہ مقدمات سے متعلق ڈیٹا کے تحفظ اور رازداری کے لیے سخت معیارات مقرر کیے گئے ہیں۔
مزید برآں ان رہنما اصولوں میں کیس مینجمنٹ، قانونی تحقیق، پیش گوئی پر مبنی تجزیہ اور دستاویزات کی پراسیسنگ جیسے شعبوں میں اے آئی کے عملی استعمال کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ججز اور عدالتی عملے کی تربیت کے لیے باقاعدہ پروگرامز متعارف کرانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ نئی ٹیکنالوجی کو ذمہ داری کے ساتھ اپنایا جا سکے۔یہ فریم ورک نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی (این جے اے سی) کی سربراہی میں تیار کیا گیا جس کی قیادت سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے کی۔ اس عمل میں تمام ہائی کورٹس اور ماہر اداروں سے مشاورت بھی شامل رہی جبکہ اسے بین الاقوامی بہترین روایات کے مطابق پاکستان کے آئینی اور ادارہ جاتی تناظر میں ترتیب دیا گیا ہے۔
رہنما اصولوں میں ہائی کورٹس کی انتظامی اور عدالتی خودمختاری کا بھی مکمل احترام کیا گیا ہے جس کے تحت ہر عدالت اپنی ضروریات اور وسائل کے مطابق ان اصولوں پر عمل درآمد کر سکے گی۔
یہ اقدام پاکستان میں عدالتی اصلاحات کے سفر میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے جو جدید ٹیکنالوجی اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے درمیان متوازن ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
