سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیاں، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں گندم کی پیداوار خطرے سے دوچار
پشاور۔: بھارت کی جانب سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں خیبر پختونخوا اور پنجاب میں گندم کی پیداوار خطرے سے دوچار ہے۔
بھارت کی جانب ان خلاف ورزیوں نے لاکھوں کسانوں کو خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان ہی کسانوں میں سے ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے 49 سالہ عدنان خان بھی ہیں۔ وہ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے پہاڑ پور میں زراعت کے پیشہ سے منسلک ہیں لیکن وہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے مستقبل کےلیے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے لاکھوں کسانوں کی طرح عدنان خان کے روزگار کا انحصار بڑی حد تک دریائے سندھ کے نظام سے پانی کے مستقل بہاؤ پر ہے اور حال ہی میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کی وجہ سے یہ بہاؤ غیر یقینی محسوس ہو رہا ہے۔ عدنان خان کا کہنا ہے کہ ہم اس پانی کے سہارے جیتے ہیں، اگر یہ رک گیا تو سب کچھ رک جائے گا۔ نسلوں سے ڈیرہ اسماعیل خان کے کسان اپنی گندم، مکئی، چاول اور دیگر فصلوں کے ساتھ ساتھ باغات اور سبزیوں کی آبیاری کےلیے دریائے سندھ پر انحصار کرتے رہے ہیں جسے مقامی طور پر سندھ کہا جاتا ہے۔
تاریخی سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب پر حقوق دیے گئے ہیں۔ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے کو طویل عرصے تک پاکستان اور بھارت کے درمیان تعاون کی ایک نادر مثال سمجھا جاتا رہا ہے جس پر اس وقت کے پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے دستخط کیے تھے۔ عدنان خان اور ان جیسے بہت سے لوگ اب خدشات میں مبتلا ہیں کیونکہ گزشتہ سال اپریل میں فاشسٹ مودی حکومت نے بین الاقوامی معاہدوں اور عالمی بینک کی ضمانتوں کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔
عدنان خان کا کہنا ہے کہ اگر دریا میں پانی کم ہوگا، تو ہماری گندم کم ہوگی اور جب گندم کم ہوگی، تو بھوک بڑھے گی جس کے نتیجے میں بچے کمزور اور مائیں غذائی قلت کا شکار ہوں گی۔ کسانوں کی یہ تشویش انتہائی حقیقی ہے اور اس پر خاص طور پر عالمی بینک کی جانب سے فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔
زرعی ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا سالانہ صرف 1.2 سے 1.5 ملین ٹن گندم پیدا کرتا ہے جو کہ اس کی 5 ملین ٹن کی کھپت کی ضروریات سے بہت کم ہے۔ یہ فرق صوبے کو دوسرے صوبوں خاص طور پر پنجاب پر انحصار کرنے پر مجبور کرتا ہے جسے ملک کا اناج گھر کہا جاتا ہے۔
پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نعیم الرحمن خٹک خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو پانی کی قلت اس عدم توازن کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ 70 فیصد پیداواری فرق پہلے ہی موجود ہے۔ دریا کے بہاؤ میں کوئی بھی رکاوٹ اسے مزید خراب کر سکتی ہے جس سے پاکستان میں بھوک اور افلاس کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، معیاری بیجوں تک محدود رسائی اور دیگر مسائل پاکستان کے کسانوں پر بوجھ ہیں جس میں سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کی غیر یقینی صورتحال ان کے مسائل میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔ یہ مسئلہ صرف گندم اور دیگر موسمی فصلوں تک محدود نہیں ہے۔ پانی کے کم بہاؤ سے لائیو اسٹاک ، باغات، ماہی گیری اور یہاں تک کہ شہد کی پیداوار کو بھی خطرہ لاحق ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر اعجاز خان نے صورتحال کو واضح انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ پانی صرف ایک ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ بقا ہے۔ کوئی بھی خلل اربوں جانداروں کو متاثر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تربیلا اور منگلا جیسے بڑے بنیادی ڈھانچے آبپاشی اور بجلی کےلیے دریا کے مسلسل بہاؤ پر منحصر ہیں۔ پانی کی کمی پاکستان میں خوراک کی عدم تحفظ کے ساتھ ساتھ توانائی کی قلت کا باعث بن سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطلی کی اجازت نہیں دیتا اور اس کا بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہنا دونوں ریاستوں پر لازم ہے۔
ثالثی کی مستقل عدالت (پی سی اے) نے اس کی لازمی حیثیت کی توثیق کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی تبدیلی کے لیے باہمی اتفاق رائے ضروری ہے۔ انہوں نے عالمی بینک پر زور دیا کہ وہ مداخلت کرے اور مودی حکومت کو اپنا غیر قانونی فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرے۔
عدنان خان جیسے کسانوں کےلیے قانونی بحثیں دور کی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ان کے لیے اہم بات یہ ہے کہ آیا ان کے خاندان کی بقا کےلیے ان کی زمین تک پانی پہنچتا ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ زمین ہمیں کھلاتی ہے لیکن اسے زندہ رہنے کےلیے پانی کی ضرورت ہے۔
سندھ طاس خطے میں تقریباً 30 کروڑ لوگوں کی کفالت کرتا ہے۔ اس میں کوئی بھی خلل نہ صرف فصلوں بلکہ روزگار، استحکام اور امن کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ جیسے جیسے ڈی آئی خان میں گندم کی کٹائی کا سیزن قریب آ رہا ہے عدنان خان اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ آنے والی چاول کی فصل کے لیے دریا بہتے رہیں گے کیونکہ ان کے لیے اور ان جیسے لاکھوں لوگوں کے لیے پانی سیاست نہیں بلکہ زندگی ہے۔
