موسمیاتی لحاظ سے مضبوط زراعت کے فروغ کے لئے مربوط حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت
اسلام آباد۔: وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے کہا ہے کہ موسمیاتی لحاظ سے مضبوط زراعت کا فروغ، پانی کے مؤثر ذخیرہ و انتظام اور بروقت وارننگ سسٹمز کی بہتری کے ساتھ وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آئندہ مہینوں میں غذائی اور آبی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
پیر کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہےجہاں حالیہ بارشوں کے پیٹرن اور آنے والے گرمیوں کے مون سون کے رجحانات زرعی شعبے اور آبی وسائل پر نمایاں اثرات مرتب کر رہے ہیں،حالیہ عرصے میں، بالخصوص موسمِ سرما کے اختتام اور بہار کے آغاز کے دوران ملک کے مختلف حصوں خصوصاً بالائی اور شمالی علاقوں میں ہونے والی بارشوں نے مجموعی طور پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔
ان بارشوں سے مٹی میں نمی میں اضافہ ہوا ہے اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد بہتر ہوئی ہے، جس سے زرعی آبپاشی کی ضروریات پوری کرنے اور توانائی کے شعبے پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملی ہے،بارشوں کی یہ تقسیم یکساں نہیں رہی۔ سیزن کے آغاز میں پنجاب اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں معمول سے کم بارشیں ریکارڈ کی گئیں، جس کے باعث مقامی سطح پر پانی کی دستیابی متاثر ہوئی اور کسانوں کو اضافی آبپاشی پر انحصار کرنا پڑا۔
یہ صورتحال پاکستان کی موسمیاتی حساسیت کو واضح کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آنے والے گرمیوں کے مون سون کے حوالے سے توقع ہے کہ اس کا پیٹرن زیادہ متغیر اور ممکنہ طور پر شدید ہوگا۔ترجمان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث بارشوں کی شدت میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے طوفانی بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور اچانک سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ مجموعی بارش فائدہ مند ہو سکتی ہےلیکن اس کا مختصر وقت میں زیادہ مقدار میں ہونا نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے تناظر میں حالیہ بارشوں نے ربیع فصلوں خصوصاً گندم کے لیے سازگار حالات فراہم کیے ہیں، کیونکہ اہم مراحل کے دوران مٹی میں نمی بہتر ہوئی ہے،درجہ حرارت میں اضافے کی پیشگوئی کی جا رہی ہےجس سے فصلوں کی جلد پکنے، کیڑوں کی افزائش اور خاص طور پر جنوبی علاقوں میں گرمی کے دباؤ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آنے والا مون سون پاکستان کی زراعت کے لیے دو سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک طرف یہ خریف فصلوں جیسے چاول، مکئی اور کپاس کے لیے نہایت اہم ہے اور زیرِ زمین پانی و آبی ذخائر کو بھرنے میں مددگار ہوگا، جبکہ دوسری جانب غیر متوقع اور زیادہ بارشیں سیلاب، پانی کھڑا ہونے (واٹر لاگنگ) اور فصلوں کی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں، جیسا کہ ماضی میں دیکھا جا چکا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پانی کی دستیابی کے حوالے سے حالیہ رجحانات بہاری بارشوں اور شمالی علاقوں میں برف پگھلنے کے باعث بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں، طویل المدتی آبی تحفظ کا انحصار مون سون بارشوں کے وقت، شدت اور جغرافیائی تقسیم پر ہوگا، بارشوں کی کمی اور زیادتی دونوں ہی خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے نازک موسمی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں پیشگی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
موسمیاتی لحاظ سے مضبوط زراعت کو فروغ دینا، پانی کے ذخیرہ اور انتظام کے نظام کو بہتر بنانا، اور بروقت وارننگ سسٹم کو مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی اور کسانوں کو بروقت رہنمائی فراہم کرنا آئندہ مہینوں میں غذائی و آبی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گا۔\
