حکومت کا شام 5بجے سے رات 1بجے تک روزانہ 2.25 گھنٹے بجلی کی بندش کا اعلان

14 April 2026 | 10:23

اسلام آباد۔: ترجمان پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود ملک کے تمام بجلی صارفین کے لئے جولائی سے فروری تک بجلی کی فی یونٹ قیمت اوسطاً 71 پیسے کم ہوئی ہے جس کا کل حجم 46 ارب روپے بنتا ہے۔

منگل کو پیک آورز ریلیف سٹریٹیجی سے متعلق جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ اس نمایاں کمی کی بنیادی وجوہات میں سسٹم میں لائی جانے والی اصلاحات، مختلف ریلیف پیکجز، میرٹ آرڈر پر سختی سے عملدرآمد، بہتر اور بروقت منصوبہ بندی اور نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق موثر انداز میں چلانا شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خاص طور پر بہتر پلاننگ کے ذریعے کم لاگت والے ذرائع کو ترجیح دی گئی، پیداواری صلاحیت کو موثر طریقے سے استعمال کیا گیا اور ترسیلی و انتظامی سطح پر بہتری لا کر نقصانات کو کم کیا گیا۔ ان مربوط اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف نظام کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی بلکہ صارفین کو براہِ راست اور پائیدار ریلیف بھی فراہم ہوا۔

ترجمان نے کہا کہ آج عالمی سطح پر سخت حالات کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار مستحکم ہے اس وقت بھی ہم اس قابل ہیں کہ ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت سب سے بڑا چیلنج شام سے لے کر رات تک کے پیک آورز (شام 5سے رات 1:00)میں درپیش ہے جہاں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ان دنوں پانی سے چلنے والے بجلی گھروں کی پیداوار بہت کم ہو گئی ہے، اگر ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مہنگے ایندھن پر انحصار کیا جائے تو اس سے بجلی کی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے فیصلہ کیا ہےشام 5بجے سے رات 1:00بجے تک روزانہ تقریباً 2.25 گھنٹے بجلی کی فراہمی کو بند کیا جائے گا تاکہ مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے اور بجلی کی قیمت میں ممکنہ اضافے کو روکا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی توجہ اور ذاتی مانیٹرنگ سے صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جارہا ہے اور ہماری ٹیم کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ کسی بھی صورت بجلی کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ نہ ہو اور اگر فرنس آئل کے استعمال سے کچھ قیمت میں اضافہ ہو بھی تو ایسے اقدامات ضرور کئے جائیں جس سے ممکنہ اضافے کو کم سے کم کیا جائے۔ وزیراعظم کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں 80 MMCFD لوکل گیس پاور پلانٹس کو مہیا کردی گئی ہے جس کی بدولت نہ صرف بجلی کی قیمت میں 80 پیسے فی یونٹ اضافے کو بلکہ اضافی لوڈ منیجمنٹ کو بھی روک دیا گیاہے، پیک اوز میں 2.25گھنٹے کی لوڈمنیجمنٹ کا مقصد بجلی کی قیمت میں تقریباً 3 روپے فی یونٹ اضافے کو روکنا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ فرنس آئل کے استعمال کو محدود کرنے کے باوجود ہمیں تقریباً 1.5 روپے فی یونٹ کے اضافے کیلئے تیار رہنا ہوگا جو کہ اگر یہ اقدامات نہ ہوتے تو 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے کا موجب بنتے۔ ڈسکوز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ہر فیڈر کے بجلی بند کرنے کے اوقات کو ہر سطح پر صارفین سے شیئر کیا جائے تاکہ ان کو اپنی بجلی کے اوقات کا پتہ ہو اور اس شیڈول کے علاوہ کوئی بھی بجلی بند نہ ہو جہاں کسی لوکل فالٹ کی وجہ سے بجلی بند کرنے کی ضرورت پیش آئے تو متعلقہ دفاتر صارفین کو اس بارے معلومات دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ عوام کو بین الاقوامی حالات کی وجہ سے کم سے کم تکالیف کا سامنا ہو اور ہر وہ اقدام ضرور کیا جائے جس سے عوام کو ریلف ملے۔ واضح رہے کہ یہ اقدام لوڈشیڈنگ یا لوڈ مینجمنٹ نہیں بلکہ پیک آورز میں قیمتوں کے ممکنہ اضافے کو کم کرنے کے لیے حکومت کی ’’پیک ریلیف سٹریٹجی‘‘ کا حصہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ حکومت پرعزم ہے کہ بین الاقوامی حالات کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے اور ہر ممکن اقدام کیا جائے جس سے بجلی کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ کوششوں سے اگر کمرشل مارکیٹس کی بروقت بندش کو یقینی بنایا جائے تو اس سے بھی بجلی کی طلب میں کمی لا کر قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو مزید کم کیا جا سکتا ہے۔