پاکستان سندھ طاس معاہدہ کیلئے تمام سفارتی اور سیاسی ذرائع کا ستعمال کرے، معروف آبی ماہر ڈاکٹر عظیم علی شاہ
اسلام آباد۔: آبی مسائل اور واٹر گورننس کے معروف ماہر ڈاکٹر عظیم علی شاہ نے پاکستان کو ہوشیار رہنے اورسندھ طاس معاہدہ کے تحت قومی مفادات کے تحفظ کے لیے فعال سفارتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اتوار کو خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نے اپریل 2025 میں اس معاہدہ کو التوا میں رکھا لیکن اسے منسوخ نہیں کیا، یعنی یہ معاہدہ اب بھی قانونی طور پر دونوں ممالک کے درمیان موجود ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اگست 2025 میں، ثالثی کی مستقل عدالت نے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس میں ڈیزائن کی کارکردگی پر ہندوستان کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنا تاریخی فیصلہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے بھارت کو ہدایت کی گئی ہے کہ رن آف دی ریور پروجیکٹس کے ڈیزائن کی دفعات پر سختی سے عمل کرے۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ سے بگلیہار ڈیم کے معاملہ میں ہندوستان کی طرف سے قائم کی گئی نظیر کو مؤثر طریقہ سے منسوخ کر دیا گیا ہے کیونکہ اس منصوبہ میں معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈیم کا ڈیزائن تیار کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر عظیم علی شاہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بھارت کی جانب سے مغربی دریاؤں پر بڑے آبی ذخائر کی تعمیر سے معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی کا امکان کم ہی ہے کیونکہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت یہ ممنوع ہے تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ قابل اجازت منصوبوں میں ڈیزائن کی دفعات کی خلاف ورزیاں تشویش کا باعث ہیں۔
انہوں نے دریائے چناب پر ساولکوٹ ڈیم کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایک اہم ٹیسٹ کیس ہے کیونکہ بھارت نے حال ہی میں اس منصوبے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو چاہئے کہ بین الاقوامی سطح پر کسی بھی بھارتی خلاف ورزی کو اجاگر کرنے کے لیے سندھ طاس معاہدہ کے تحت فراہم کردہ میکانزم کے ساتھ تمام سفارتی اور سیاسی ذرائع کا استعمال کرے۔
انہوں نے بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان گنگا کے پانی کی تقسیم کے معاہدہ کی طرف بھی اشارہ کیا جو اس سال کے آخر میں ختم ہونے والا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چاہے اس معاہدے کی تجدید کی جائے یا دوبارہ بات چیت کی جائے، اس سے پڑوسی ممالک کے ساتھ پانی کی تقسیم کے بارے میں بھارتی نقطہ نظر واضح ہو گا۔ مستقبل کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر عظیم علی شاہ نے سندھ طاس معاہدہ کے فریم ورک کے تحت بھارت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو جاری رکھنے کی وکالت کی۔
انہوں نے 2025 میں سیلاب کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سفارتی ذرائع کے ذریعے معلومات کے تبادلہ کا حوالہ دیا جو انڈس واٹر کمیشن کے ذریعے نہیں تھا تاہم ہائیڈرولوجیکل معاملات میں معلومات کے تبادلہ کی ایک مثال ہے۔
انہوں نے پاکستان کے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی دریاؤں کے بہاؤ کو روکنے کی کسی بھی قسم کی کوشش اگرچہ تکنیکی طور پر ناقابل عمل ہے اور اس طرح کا کوئی بھی اقدام آبی دہشتگردی اور جنگ کی کارروائی تصور کیا جائے گا۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر ڈاکٹر عظیم علی شاہ نے نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان کو اپنے موقف کو برقرار رکھنا چاہیے اور سندھ طاس معاہدہ کی برقراری کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی اقدامات پر فعال طور پر عمل کرنا چاہیے۔/
