گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان

05 May 2026 | 05:32

اسلام آباد۔: آئندہ مالی سال کے لیے گیس کے ٹیرف میں نمایاں اضافے کا امکان ہے ۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی مالی سال 2026-27 کے لیے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی ٹیرف درخواستوں پر غور کے لیے 12 اور 13 مئی کو لاہور اور کراچی میں عوامی سماعت کرے گی۔
ذرائع کے مطابق ایس این جی پی ایل نے درخواست کی ہے کہ اس کا مقررہ ٹیرف آئندہ مالی سال میں 1853 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 2084 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کیا جائے جس میں ایل این جی ڈائیورژن کی لاگت بھی شامل ہے جبکہ ایس ایس جی سی ایل نے اس سے بھی زیادہ اضافے کی درخواست کی ہے۔
یہ سماعتیں اپریل میں ہونے والی پہلے کی تاخیر کے بعد منعقد ہو رہی ہیں جب مشرق وسطیٰ کے بحران سے منسلک گیس اور ایل این جی کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال نے جائزہ عمل کو پیچیدہ بنا دیا ۔ قانون کے تحت ریگولیٹر کو 30 جون سے کم از کم 40 دن پہلے اپنا فیصلہ جاری کرنا ہوتا ہے تاکہ حکومت یکم جولائی سے نظرثانی شدہ صارف ٹیرف نافذ کر سکے۔
ریگولیٹر کی جانب سے مقرر کردہ ایک آزاد مشیر نے آئندہ پانچ سالوں میں یو ایف جی الاؤنس میں معمولی کمی کی تجویز دی ہے۔ اس سفارش کے تحت دونوں کمپنیوں کے لیے بینچ مارک الاؤنس کو مالی سال 2027 میں 6.5 فیصد، 2028 میں 6.3 فیصد، 2029 میں 6 فیصد، 2030 میں 5.8 فیصد اور 2031 میں 5.5 فیصد تک کم کیا جائے گا۔
اس تجویز کے تحت ایس این جی پی ایل کو مقامی مسائل کے باعث اضافی 0.5 فیصد پوائنٹ الاؤنس دیا جائے گا جبکہ ایس ایس جی سی ایل کو 1.7 فیصد پوائنٹس اضافی دیے جائیں گے۔ اس طرح ایس این جی پی ایل کا یو ایف جی الاؤنس مالی سال 2027 میں 7 فیصد اور 2031 تک تقریباً 6 فیصد ہو جائے گا، جبکہ ایس ایس جی سی ایل کا الاؤنس 2027 میں 8.2 فیصد اور 2031 تک 7.3 فیصد رہے گا۔
موجودہ نظام میں گیس کی مقررہ قیمتوں میں شامل سسٹم لاسز کا الاؤنس تقریباً 7.6 فیصد ہے، جس میں 2.6 فیصد کارکردگی پر مبنی یو ایف جی الاؤنس شامل ہے جبکہ حقیقی یو ایف جی نقصانات ایس این جی پی ایل کے 8.8 فیصد اور ایس ایس جی سی ایل کے 13.6 فیصد ہیں۔
مشیر نے ری گیسفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اس وقت آر ایل این جی کے لیے ترسیل یا تقسیم کے نقصانات کا کوئی الگ بینچ مارک موجود نہیں۔ اس کے بجائے گزشتہ سال کی مقامی گیس کے اوسط یو ایف جی کو استعمال کیا جا رہا ہے۔