کنٹری پارٹنرشپ پروگرام پاکستان کیلئے مستحکم و خوشحال معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، عالمی بینک
اسلام آباد۔: عالمی بینک نے کہاہے کہ پاکستان کیلئے کنٹری پارٹنرشپ پروگرام نہ صرف صنفی خلا کم کرنے کا ایک جامع منصوبہ ہے بلکہ یہ پاکستان کو زیادہ منصفانہ، مستحکم اور خوشحال معاشرے کی طرف لے جانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
عالمی بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کے لیے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک 2026 تا 2035 میں ملک میں صنفی عدم مساوات کم کرنے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے جامع حکمت عملی پیش کی گئی ہے اورقراردیا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی تحفظ کے میدان میں برابر مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو درپیش سب سے بڑے مسائل میں بچوں میں نشوونما کی کمی ، تعلیمی پسماندگی، موسمیاتی تبدیلیاں، توانائی کی قلت، محدود مالی وسائل اور نجی سرمایہ کاری کی کمی شامل ہیں ،ان تمام شعبوں میں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہورہی ہے۔
عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں تقریباً 40 فیصد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں، جو عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ اس مسئلے کی جڑیں ناقص غذائیت، صاف پانی کی کمی اور صحت کی سہولیات تک محدود رسائی میں پیوست ہیں،کنٹری پارٹنرشپ پروگرام کے تحت حاملہ خواتین، نوعمر لڑکیوں اور بچوں کے لیے بہتر غذائیت، صحت کی سہولیات اور خاندانی منصوبہ بندی پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ اس مسئلے کی جڑ کا خاتمہ ممکن ہو۔
دستاویز کے مطابق پاکستان میں 77 فیصد بچے 10 سال کی عمر تک بنیادی پڑھنے کی صلاحیت حاصل نہیں کر پاتے اگرچہ لڑکوں اور لڑکیوں میں سیکھنے کی کمی کا فرق زیادہ نہیں، لیکن لڑکیاں اسکول سے باہر رہنے کے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں،اس کی بڑی وجوہات میں سکیورٹی خدشات، سکولوں کا دور ہونا، خواتین اساتذہ کی کمی اور مناسب سہولیات کا فقدان شامل ہیں۔
پروگرام کے تحت لڑکیوں کے لیے خصوصی اسکالرشپس، محفوظ ٹرانسپورٹ، علیحدہ سہولیات اور والدین میں شعور اجاگر کرنے جیسے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ 10سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت پاکستان میں 68 فیصد کام کرنے والی خواتین زراعت سے وابستہ ہیں، مگر انہیں مردوں کے مقابلے میں 63 فیصد کم آمدنی حاصل ہوتی ہے سیلاب اور خشک سالی جیسے موسمیاتی اثرات خواتین کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔
فریم ورک میں خواتین کسانوں کو جدید زرعی تربیت، مالی وسائل اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ فریم ورک کے مطابق پاکستان میں نصف سے بھی کم گھرانے صاف ایندھن استعمال کرتے ہیں، جبکہ اکثریت لکڑی یا دیگر مضر ایندھن پر انحصار کرتی ہے اس کا سب سے زیادہ نقصان خواتین کو ہوتا ہے جو گھریلو کاموں میں مصروف رہتی ہیں۔
رپورٹ میں صاف توانائی تک رسائی بڑھانے کو خواتین کی صحت اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔ کنٹری پارٹنرشپ پروگرام کے تحت مالیاتی اصلاحات کے ذریعے صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا گیا ہے،اس کے علاوہ زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے خواتین کو وراثتی حقوق دلانے کی کوششیں بھی شامل ہیں، جس سے ان کی معاشی خودمختاری میں اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت صرف 25 فیصد ہے، جو انتہائی کم ہے، کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت خواتین کی ملکیت والے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی حوصلہ افزائی، ڈیجیٹل مالیاتی خدمات، اور نجی شعبے میں خواتین کے لیے ملازمت کے مواقع بڑھانے پر توجہ دی جائے گی اسی طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ خواتین کو براہِ راست مالی امداد مل سکے اور ان کی معاشی شمولیت میں اضافہ ہو۔
عالمی بینک نے کہاہے کہ اگر پاکستان خواتین کو معاشی اور سماجی میدان میں برابر مواقع فراہم کرے تو ملک کی معیشت میں نمایاں بہتری آسکتی ہے اور اندازوں کے مطابق خواتین کی مکمل شرکت سے جی ڈی پی میں 23 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔
