نجی سکولوں میں خواتین اساتذہ استحصال کا شکار، انتہائی کم تنخواہ پر کام کرنے پرمجبور
ملتان۔ جنوبی پنجاب کے تعلیمی مرکز ملتان میں نجی سکولوں کی خواتین اساتذہ کی کم تنخواہیں نظر انداز کیے گئے مسئلے کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔
خواتین یونیورسٹی کی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار نے بتایا کہ شہر بھر میں ہزاروں تعلیم یافتہ خواتین 12 ہزار سے 20 ہزار روپے ماہانہ پر تدریسی خدمات انجام دینے پر مجبور ہیں جو موجودہ مہنگائی کے تناظر میں انتہائی ناکافی ہے۔
ملتان میں نجی سکولوں کی تعداد اندازاً 1200سے زائد ہے ، جن میں کم و بیش 70 سے 75 فیصد تدریسی عملہ خواتین پر مشتمل ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد میٹرک، انٹر، بی اے اور بعض کیسز میں ماسٹرز ڈگری ہولڈرز پر مشتمل ہے، مگر اس کے باوجود ان کی تنخواہیں نہایت کم ہیں۔
پرائمری لیول کی خواتین اساتذہ کی اوسط تنخواہ 10 سے 15 ہزار روپے، مڈل لیول پر 15 سے 18 ہزار جبکہ میٹرک اورانٹر لیول پر پڑھانے والی اساتذہ کی تنخواہیں زیادہ سے زیادہ 20 سے 25 ہزارروپے تک محدود ہیں۔ اس کے برعکس شہر کے مہنگے اورایلیٹ سکولوں میں یہ تنخواہیں 35 سے 60 ہزار روپے تک بھی پہنچتی ہیں، تاہم ایسے اداروں میں ملازمت کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔
شہر کے مختلف سکولوں میں پڑھانے والی اساتذہ سارہ، عائشہ، مریم اور نادیہ نے بتایا کہ انہیں اپنی قابلیت اور محنت کے مطابق معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ سارہ 12 ہزار، عائشہ 15 ہزار جبکہ مریم 20 ہزار روپے ماہانہ کما رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹ، یوٹیلٹی بلز اور گھریلو اخراجات پورے کرنےکے بعد بچت تقریباً ناممکن ہے۔
معاشی ماہرین بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر فاروق، پروفیسر ڈاکٹر سدرہ ظہیر عباسی نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کو مدنظر رکھا جائے تو ایک شہری گھرانے کے بنیادی اخراجات کم از کم 40 سے 50 ہزار روپے ماہانہ بنتے ہیں، جس کے مقابلے میں نجی سکول ٹیچرز کی آمدن نصف سے بھی کم ہے۔
مزید برآں پنجاب میں کم از کم اجرت تقریباً 32 ہزار روپے مقرر ہے، مگر متعدد نجی سکول اس قانون پر عملدرآمد نہیں کر رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کم فیس والے نجی سکولوں میں تقریباً 80 سے 85 فیصد اساتذہ 20 ہزار روپے سے کم تنخواہ لے رہے ہیں، اور ان میں اکثریت خواتین کی ہے۔
یہ صو ر تحال نہ صرف صنفی عدم مساوات کو ظاہر کرتی ہے بلکہ تعلیمی معیار کیلئے بھی خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ کم تنخواہ کے باعث اساتذہ کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور تسلسل متاثر ہوتا ہے۔ایک اور اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نجی سکولوں میں کام کرنے والی خواتین اساتذہ کو نہ تو میڈیکل سہولیات حاصل ہیں، نہ ہی پنشن یا دیگر مراعات۔ بیشتر سکولوں میں کنٹریکٹ یا غیر رسمی بنیادوں پر بھرتی کی جاتی ہے، جس کے باعث کسی بھی وقت ملازمت ختم ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
سماجی رہنما صائمہ فیض نے کہا کہ خواتین کی بڑی تعداد گھریلو مجبوریوں، سماجی پابندیوں اور محدود جاب مارکیٹ کے باعث قریبی نجی سکولوں میں کم تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہیں جس کا فائدہ بعض ادارے اٹھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپیل کرتے ہیں کہ حکومت نجی سکولوں کی رجسٹریشن کو اس شرط سے مشروط کرے کہ وہ اساتذہ کو کم ازکم مقررہ اجرت ادا کریں، جبکہ لیبرقوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔
واضح رہے کہ ملتان میں نجی تعلیمی اداروں کا دائرہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔مگر اس کےساتھ ساتھ اساتذہ خصو صاً خواتین کی کم تنخواہوں کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
