معرکہ حق اور قومی یکجہتی :” واعتصموا بحبلِ اللہ” کی روشن مثال
اسلام آباد۔(خواجہ بابر فاروق): بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ آزادی بہت بڑی نعمت ہے جس کے سامنے دنیا کی کوئی آسائش اہمیت نہیں رکھتی۔ آزادی کی قدرومنزلت وہ قومیں بخوبی جانتی ہیں جو کبھی محکوم رہی ہوں یا ہمارے وہ آباواجدادجو قیام پاکستان سے پہلے ہندوستان میں آباد تھے ۔ آج بھی جب ان سے تقسیم ہند سے قبل کی المناک داستانیں سنتے ہیں تو دل سے بے ساختہ اللہ کے شکر کے کلمات ادا ہوتے ہیں کہ ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کی بدولت آج ایک آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں ۔ آزادی کی اس گرانقدر نعمت کو برقرار رکھنے کے لئے پاکستانی قوم نے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کیں ۔ آزادی کے فوری بعد بھارت نے نو زائیدہ ریاست پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بننے شروع کردیئے تھے۔ کبھی وطن عزیز پر جنگیں مسلط کی گئیں اور کبھی یہاں دہشت گردی کے نیٹ ورکس قائم کرکے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ناپاک سازشیں رچائی گئیں ۔ آزمائش کی ان گھڑیوں میں وطن عزیز کے غیور عوام نے قومی یکجہتی کا اظہار جبکہ افواج پاکستان کے افسروں و جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے ہمیشہ ان سازشوں کو ناکام بنایا اورہمارے کل کے لئے اپنا آج قربان کیا۔ آزادی کی یہ نعمت آج ہمارے انہی شہداء کی لازوال قربانیوں کی بدولت قائم و دائم ہے ۔
حالیہ تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ 22 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقہ پہلگام میں بھارتی فالس فلیگ آپریشن کے فوری بعد بھارت کی جانب سے پاکستان پر بلاجواز الزامات اور جارحانہ اقدامات کے ذریعے خطہ کے ماحول کو تصادم کی طرف دھکیلا گیا جسے ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے سب سے پہلے سفارتی سطح پر ناکام بنایا اور بعد ازاں بروقت فیصلہ کرتے ہوئے انتہائی موثر انداز میں پوری دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان اپنا دفاع کرنے کا فن جانتا ہے۔
بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے 10 مئی 2025 کو آپریشن “بنیان مرصوص ” کا آغاز کیا اور انتہائی کم وقت میں اللہ تعالیٰ نے افواج پاکستان کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا ۔ بلا شبہ پاکستان کی تاریخ میں یہ وہ لمحہ تھا جس میں پاکستانیوں کو فخروانبساط کے وہ لمحات عطا ہوئے جو رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے ۔
مبصرین کے مطابق معرکہ ٔ حق نے نہ صرف بیرونی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو اجاگر کیا بلکہ اندرونی سطح پر قومی اتحاد، یکجہتی اور اجتماعی شعور کی ایک مضبوط مثال بھی پیش کی۔
ہمارے اس داخلی اتحاد نے بیرونی جارحیت کے خلاف قومی قوت کو نہ صرف کئی گنا بڑھا دیا بلکہ علماء کرام اور مختلف مکاتبِ فکر کا یکجا مؤقف قومی ہم آہنگی کی مضبوط بنیاد بھی بنا۔
قرآنِ حکیم کے فرمان ”وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا“ کے مطابق مسلمانوں کو اتحاد، باہمی اخوت اور تفرقہ سے اجتناب کا درس دیا گیا ہے ۔
“معرکۂ حق اور قومی اتحاد”کو اگر قرآنِ مجید کی آیت “واعتصموا بحبلِ اللہ جمیعاً ولا تفرقوا” (سورۃ آلِ عمران 3:103) کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس سے دراصل ایک ہی بنیادی پیغام ملتا ہے کہ حق پر قائم رہنا اور باہمی اتحاد کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کی عملی تصویر یہ ہے کہ مشترکہ مقصد پر اتفاق کیا جائے۔
قوم کے افراد، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مسلک، زبان یا علاقے سے ہو، ایک بڑے اور مقدس مقصد پر متحد ہوں، یہی “حبل اللہ” کو مضبوطی سے تھامنا ہے۔ اسی اصول پر کاربند رہتے ہوئے ہماری سیاسی و عسکری قیادت نے آپریشن بنیان مرصوص کی بنیاد رکھی اور پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت آج تک کسی کے سامنے نظر نہیں اٹھا سکا ۔
مختصر یہ کہ’’معرکۂ حق‘‘ تب جیتا جاتا ہے جب قوم ’’حبل اللہ‘‘ کو مضبوطی سے تھام کر متحد ہو جائے اور تفرقہ چھوڑ کر ایک دوسرے کا سہارا بنے۔ اسی اصول کی روشنی میں پاکستانی قوم ، ریاستی ادارے، افواج اور علماء ایک صف میں کھڑے ہوئے جس نے دشمن کے بیانیے کو ناکام اور قومی قوت کو مستحکم کیا۔ یہ اتحاد محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور عملی ہم آہنگی کا مظہر تھا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ متعدد مرتبہ دشمن کی تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں قومی یکجہتی کے باعث ناکام ہوئیں۔معرکۂ حق نے یہ پیغام دیا ہے کہ اتحاد اور ایمان کی قوت ہی قومی استحکام کی ضامن ہے۔پاکستان نے اختلافات سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دی، جو ایک بالغ قوم کی علامت ہے۔قومی اتحاد نے نہ صرف دفاعی محاذ بلکہ سفارتی سطح پر بھی پاکستان کے مؤقف کو تقویت دی۔یہ یکجہتی مستقبل کے چیلنجز کے مقابلے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
معرکۂ حق اس حقیقت کی عملی تصویر بن کر سامنے آیا کہ جب قوم متحد ہو تو کوئی بھی چیلنج ناقابلِ تسخیر نہیں رہتا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ بنیان مرصوص بلا شبہ باطل کے خلاف معرکۂ حق اور قومی اتحاد”وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰہِ“ کی عملی تصویر کے طور پر تاریخ کے اوراق میں تا ابد پوری آب و تاب کے ساتھ روشن رہے گا ۔
بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ پوری قوم بالخصوص ملک کی نوجوان نسل کو بھارت کے خلاف معرکہ حق نے قومی اتحاد اور یکجہتی کے مظاہرے کے ذریعے حاصل ہونے والی بے مثالی کامیابی نے وہ خوشی اور فخر دیا ہے جو ان کے لئے تا حیات سرمایہ افتخار رہے گا۔ یہ ہماری قومی زندگی میں تازہ ہوا کا ایسا جھونکا ہے جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کو ہمیشہ فخر وانبساط سے سرشار رکھے گا۔
