سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ، بھارت سفارتی ناکامی سے دوچار
پشاور۔: عالمی ثالثی عدالت (انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن) کی جانب سے تاریخی سندھ طاس معاہدے پر ایک تاریخی فیصلے اور پاکستان کے موقف کو برقرار رکھنے کے بعد بھارت کو ایک بڑا سفارتی اور قانونی دھچکا لگا ہے۔
عالمی ثالثی عدالت نے معاہدے کی تشریح پر اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ بھارت بلا روک ٹوک پاکستان کے استعمال کےلیے مغربی دریاؤں کے پانی کو “بہنے دے” اور وہ یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل یا التوا میں نہیں رکھ سکتا۔
پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ ہلالی نے کہا کہ ثالثی عدالت کے تاریخی فیصلے کے بعد بھارت تمام بنیادیں کھو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد نئی دہلی کے پاس کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ ہائیڈرو الیکٹرک (پن بجلی) کی پیداوار سے متعلق کوئی بھی استثنیٰ بھارت کے پسندیدہ بہترین طریقہ کار کے نقطہ نظر کے مطابق نہیں بلکہ سختی سے معاہدے کی دفعات کے مطابق ہونا چاہیے۔
فیصلے نے لو لیول آؤٹ لیٹس، گیٹڈ اسپل ویز، ٹربائن انٹیکس اور فری بورڈ کی ضروریات کے بارے میں پاکستان کی تشریح کی توثیق کی۔ اس نے بھارت کو مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبوں میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کو بڑھانے سے بھی روک دیا۔ اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے کہا ہے کہ ثالثی عدالت کی طرف سے جاری کردہ فیصلے پاکستان اور بھارت دونوں پر حتمی اور لازم العمل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے حقوق اور ذمہ داریوں کو واضح طور پر بیان کرنا ہے جبکہ تعاون اور تنازعات کے مؤثر حل کو فروغ دینا ہے۔ یہ فیصلہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو التوا میں رکھنے کے اعلان اور ثالثی کی کارروائی کے بائیکاٹ کرنے کے فیصلے کے بعد مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
تجزیہ کاروں نے اس فیصلے کو پاکستان کے دیرینہ قانونی موقف کی مضبوط توثیق اور ایک ایسا اہم موڑ قرار دیا جو دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان پانی کے تنازع کے حوالے سے مستقبل کے علاقائی مذاکرات اور بین الاقوامی تاثرات کو نئے سرے سے تشکیل دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اہم فیصلے نے بھارت کے قانونی دلائل اور سفارتی حکمت عملی کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا جبکہ حساس تنازعات کو حل کرنے میں بین الاقوامی قانون اور معاہدے کی ذمہ داریوں کی اہمیت کو تقویت دی۔
ڈاکٹر ہلالی نے کہا کہ اس فیصلے نے بھارت پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ اپنے غیر منطقی رویے پر نظر ثانی کرے اور بات چیت اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے پاکستان کے ساتھ تعمیری طور پر شامل ہو۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین نے اس فیصلے کے وسیع تر جغرافیائی سیاسی اثرات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مستقبل کے بین الاقوامی فورمز پر بھارت کی ساکھ متاثر ہوگی، خاص طور پر ان مسائل پر جن میں قانونی وعدے اور دوطرفہ معاہدے شامل ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ عدالت کے فیصلے سے مسلسل انکار بھارت کو سفارتی طور پر مزید تنہا کر سکتی ہے اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے تنقید کو راغب کر سکتی ہے۔
سابق سفیر منظور الحق نے کہا کہ ثالثی عدالت کے فیصلے کی بہت بڑی اہمیت ہے کیونکہ اس نے واضح کیا کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا، اس کے علاوہ اس نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے موقف کو برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ سال اپریل میں معاہدے کو التوا میں رکھ کر بین الاقوامی وعدوں اور عالمی بینک کے تعاون سے کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں نے بین الاقوامی معاہدوں کے تقدس اور ریاستوں کے مابین تعلقات کو خطرے میں ڈال دیا ہے، فاشسٹ مودی حکومت کو ایسے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ معاہدے کو طویل عرصے تک معطل کرنے کی کوئی بھی کوشش خاص طور پر دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان پانی کے تنازعات کے سنگین مضمرات کے پیش نظر جنوبی ایشیا میں امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے نے مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پاکستان کو دیے جبکہ بھارت مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کو کنٹرول کرتا ہے۔
سابق سفیر منظور الحق نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ سال دسمبر میں معاہدے کے تحت پاکستان کو پیشگی اطلاع دیے بغیر، جیسا کہ معاہدے کے تحت درکار ہے، دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں تبدیلی کرکے معاہدے کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پانی کے بہاؤ میں یہ اچانک تبدیلیاں پاکستان کےلیے شدید تشویش کا باعث ہیں اور بھارت کی جانب سے پانی کے یکطرفہ اخراج کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی اقدامات پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ اور لاکھوں لوگوں کے روزگار کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
سابق سفیر نے بھارت کے اس بلاجواز اقدام کو پانی کا بطور ہتھیار استعمال قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی برادری کے سامنے بار بار یہ مسئلہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے ان خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنے بھارتی ہم منصب سے باضابطہ طور پر وضاحت طلب کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سے توقع کرتا ہے کہ وہ یکطرفہ اقدامات سے گریز کرے گا اور معاہدے کی تمام ذمہ داریوں کو حرف بہ حرف پورا کرے گا۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سابق چیئرمین ڈاکٹر عدنان خان نے کہا کہ ثالثی عدالت کے تاریخی فیصلے اور حکم کے بعد بھارت تمام بنیادیں کھو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت معاہدے کی دفعات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس جیسے منصوبے بنا کر مستقل طور پر معاہدے کو سبوتاژ کر رہا ہے۔
ڈاکٹر عدنان خان کے مطابق بھارت نے ثالثی اور غیر جانبدار ماہرین کی کارروائیوں میں شرکت سے انکار کر کے معاہدے کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو بھی کمزور کیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کے بہاؤ کو روکنے سے لاکھوں پاکستانیوں کو بھوک اور معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک لازمی قانونی دستاویز ہے جس نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کےلیے نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔
جنوبی ایشیائی پڑوسیوں کے درمیان دہائیوں سے سندھ طاس کے نظام پر پن بجلی کے منصوبوں پر تنازع چل رہا ہے، پاکستان کا یہ موقف ہے کہ بھارت کے بالائی علاقوں کے ڈیم نیچے کی طرف پانی کے بہاؤ کو کم کر سکتے ہیں اور پاکستان کی زراعت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
گزشتہ سال اگست میں ثالثی عدالت نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ بھارت معاہدے کے تحت پاکستان کے مغربی دریاؤں کے بلا روک ٹوک بہاؤ کی اجازت دے۔
ماہرین کا مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں نہ صرف علاقائی امن و استحکام بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کے تقدس اور ریاستوں کے مابین تعلقات پر لاگو اصولوں کےلیے بھی خطرہ ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری اور عالمی بینک پر زور دیا کہ وہ مداخلت کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ دونوں ممالک معاہدے کے فریم ورک پر مکمل عمل کریں جبکہ ایسے یکطرفہ اقدامات کو روکیں جو خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔
