حکومت کا تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں کمی پر غور، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے کی تجویز
اسلام آباد۔: حکومت آئندہ بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کا بوجھ کم کرنے پر غور کر رہی ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ویب سائٹ پروپاکستانی کے مطابق ڈان اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر خزانہ تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس شرح کم کرنے اور ممکنہ طور پر قابلِ ٹیکس آمدن کی حد بڑھانے کے حق میں ہیں۔ یہ اقدام اس طبقے کی جانب سے دیگر شعبوں جیسے ریٹیل، ہول سیل، برآمدات اور رئیل اسٹیٹ کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس ادائیگی کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت اس سال تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کرنے سے گریز کر سکتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی مالی گنجائش کو ٹیکس ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حکومتی حلقوں کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ اکثر ملازمین کو زیادہ ٹیکس سلیب میں لے جاتا ہے جس کے باعث ہاتھ میں آنے والی اصل آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو پاتا۔
رپورٹ کے مطابق حکومتی مشاورت سے واقف ایک عہدیدار نے بتایا کہ مقصد یہ نہیں کہ سرکاری ملازمین کو نقصان پہنچے بلکہ کم ٹیکس شرح اور قابلِ ٹیکس آمدن کی حد میں اضافے کے ذریعے انہیں فائدہ پہنچایا جائے، چاہے تنخواہوں میں اضافہ نہ بھی کیا جائے۔
گزشتہ چار برسوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 60 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ نجی شعبے میں مہنگائی اور سست معاشی سرگرمیوں کے باعث اجرتوں میں اضافہ محدود رہا ہے۔
حکام کے مطابق ٹیکس پالیسی آفس اور مختلف آزاد مشاورتی ادارے اس وقت متعدد تجاویز پر کام کر رہے ہیں جن پر 15 مئی سے شروع ہونے والے بجٹ مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت متوقع ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں مزید کٹوتی کی جا سکتی ہے اور اس کا بجٹ کم سے کم سطح تک محدود ہونے کا امکان ہے تاہم انکم ٹیکس، تنخواہوں، پنشن اور ترقیاتی اخراجات سے متعلق حتمی فیصلے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد کیے جائیں گے۔
گزشتہ سال وفاقی حکومت نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے باعث 170 ارب روپے سے زائد اضافی مالی بوجھ برداشت کیا جبکہ صوبائی بجٹ پر اس کے اثرات اس سے دوگنا سے بھی زیادہ بتائے گئے۔ حکام کا خیال ہے کہ ان بچتوں کا کچھ حصہ بھی تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس بوجھ میں نمایاں کمی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران تنخواہ دار طبقہ ٹیکس آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس عرصے میں تنخواہ دار افراد نے 425 ارب روپے سے زائد ٹیکس ادا کیا جو رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے تقریباً 200 ارب روپے کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے، جبکہ یہ رقم ہول سیلرز، ریٹیلرز اور ایکسپورٹرز سے حاصل ہونے والے مجموعی ٹیکس سے بھی زیادہ رہی۔
اس کے باوجود تنخواہ دار گھرانے مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔
حکام نے واضح کیا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں گزشتہ ماہ منظور کیا گیا اضافہ برقرار رہے گا۔ حکومت نے چار سال بعد پی ایس ڈی پی ملازمین کی کم از کم تنخواہوں میں 20 سے 35 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان ملازمین کی تنخواہوں میں آخری بار اپریل 2022 میں نظرثانی کی گئی تھی۔ عام سرکاری ملازمین کے برعکس، پی ایس ڈی پی عملے کو سالانہ انکریمنٹس میں 28 فیصد تک اور زیادہ سے زیادہ تنخواہوں میں 14 فیصد تک کمی کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ اسی دوران دیگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔
