افغان طالبان رجیم نے آزادی صحافت کا گلا گھونٹ دیا، افغانستان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن
اسلام آباد۔:افغان طالبان رجیم میں صحافیوں پر بڑھتے تشدد، بلاجواز گرفتاریوں اور ظالمانہ سنسرشپ نے آزادی صحافت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔
صحافتی تنظیم افغانستان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن (اےایم ایس او) نےافغان طالبان کی زیرِ حراست صحافیوں شکیب احمدنظری، بشیر حاطف، حمید فرہادی اور دیگر کی حالت زارپرشدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اےایم ایس او کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغان طالبان رجیم میں صحافیوں کی بلاجواز گرفتاریوں اور ناجائزحراست نے خوف، دباؤ اور عدم تحفظ کی فضا کو مزید گہرا کر دیاہے،افغان طالبان رجیم میں سچ بولنے والے صحافیوں کی آوازیں جبر، دھمکیوں اور سنسرشپ کے زور پردبائی جارہی ہیں، طالبان کے ہاتھوں گرفتار صحافی محض عوام تک سچ اور معلومات پہنچانے کی پیشہ ورانہ ذمہ داری انجام دے رہے تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کی غیرقانونی حراست تمام بین الاقوامی معاہدوں اور مہذب اقدار کی خلاف ورزی ہے۔
ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم میڈیا اور صحافیوں پر بلاجواز پابندیاں لگا کر اپنی آمریت اورناکام پالیسیوں پرپردہ ڈالناچاہتی ہے،انسانی حقوق کی سنگین پامالی، میڈیا پرپابندیاں اوردہشتگردوں کی سرپرستی اب افغان طالبان رجیم کی شناخت بن چکی ہیں۔
