کامسٹیک میں جدید ٹیکنالوجی اور کوانٹم کمپیوٹنگ پر بین الاقوامی ورکشاپ کا آغاز

11 May 2026 | 11:27

اسلام آباد۔: او آئی سی کی وزارتی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں جدید سائنسی و ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، کوانٹم کمپیوٹنگ اور مستقبل کی تحقیق سے متعلق پانچ روزہ بین الاقوامی تربیتی ورکشاپ کا آغاز ہوگیا۔

ورکشاپ کا انعقاد کامسٹیک کے جدید ٹیکنالوجی اور تحقیقاتی مرکز اور ہواوے آئی سی ٹی اکیڈمی کے اشتراک سے کیا گیا ہے جس کا مقصد او آئی سی رکن ممالک کے طلبا، محققین اور ماہرین میں جدید ٹیکنالوجیز سے متعلق استعداد کار، تحقیق اور سائنسی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ دنیا ایک نئی سائنسی و تکنیکی تبدیلی کے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں جدید ٹیکنالوجیز مستقبل کی معیشت، سائنس، قومی سلامتی اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو جدید سائنسی شعبوں میں تحقیق، تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دینا ہوگی تاکہ وہ عالمی تکنیکی تبدیلی سے پیچھے نہ رہ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ کامسٹیک او آئی سی ممالک میں مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ کیلئے مختلف تربیتی اور تحقیقی پروگرامز پر کام کر رہا ہے۔

کامسٹیک کے کنسلٹنٹ برائے بنیادی سائنسز پروفیسر ڈاکٹر فرحان سیف نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام کے ذریعے نوجوان محققین اور طلباء کو جدید سائنسی میدانوں میں بنیادی اور عملی تربیت فراہم کی جائے گی۔

ایکو سائنس فائونڈیشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر سید کمیل طیبی نے کہا کہ آنے والے برسوں میں جدید ٹیکنالوجیز عالمی ترقی میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی، اس لیے ترقی پذیر ممالک کو اپنے نوجوان سائنسدانوں اور جامعات کو اس شعبے کیلئے تیار کرنا ہوگا۔

ہواوے ٹیکنالوجیز کے نمائندے ارسلان احمد خان نے جدید ڈیجیٹل نظام، کلائوڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز دنیا بھر میں حکومتی، صنعتی اور تحقیقی نظام کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہیں۔

ورکشاپ میں مختلف جدید سائنسی موضوعات پر لیکچرز، تکنیکی سیشنز اور عملی تربیت دی جا رہی ہے۔پانچ روزہ ورکشاپ میں پاکستان آذربائیجان، بنگلہ دیش، برکینا فاسو، کیمرون، چین، مصر، انڈونیشیا، اردن، کینیا، ملائیشیا، نائیجیریا، ، سعودی عرب، سوڈان، تیونس اور یمن سمیت 18 سے زائد او آئی سی رکن و مبصر ممالک کے شرکا آن لائن اور بالمشافہ شرکت کر رہے ہیں۔