صحافیوں پر حملے فوری بند کیے جائیں، اقوام متحدہ کا انتباہ
اقوام متحدہ۔: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے یہ بات عالمی یومِ آزادیِ صحافت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی جو ہر سال 3 مئی کو منایا جاتا ہے۔
وولکر ترک نے اپنے پیغام میں خبردار کیا کہ جب میڈیا پر حملے معمول بن جائیں تو آزادی خود زوال پذیر ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کی بنیادیں بھی کمزور پڑ جاتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے دنیا بھر کے بہادر صحافیوں اور فوٹوگرافروں کو خراج تحسین پیش کیا جو سنگین مظالم کو دستاویزی شکل دیتے ہیں، بدعنوانی کو بے نقاب کرتے ہیں اور کاروباری سرگرمیوں کا احتساب کرتے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ آج صحافت ایک غیر محفوظ اور بعض اوقات خطرناک پیشہ بن چکی ہے جہاں میڈیا کارکنوں کو گاڑیوں میں بم حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے، دفاتر سے اغوا کیا جاتا ہے، جیلوں میں قید کیا جاتا ہے اور ملازمتوں سے نکالا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال جنوری سے اب تک کم از کم 14 صحافی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ گزشتہ دو دہائیوں میں صحافیوں کے قتل کے صرف تقریباً 10 فیصد واقعات میں مکمل احتساب ہو سکا ہے اور مسلح تنازعات کی رپورٹنگ سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی غزہ میں جنگ میڈیا کے لیے موت کا جال بن چکی ہے، جہاں اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً 300 صحافیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ اکثر جنگی علاقوں میں مقامی صحافی ہی رپورٹنگ کر رہے ہوتے ہیں جو شدید تشدد، بربریت اور حتیٰ کہ قحط جیسے حالات کا سامنا کرتے ہوئے بھی اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ حالیہ برسوں میں جنگی علاقوں میں صحافیوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور کئی مواقع پر انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ جنگ میں سب سے پہلے سچائی قربان ہوتی ہے لیکن حقیقت میں اکثر وہ صحافی سب سے پہلے نشانہ بنتے ہیں جو سچ سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آزادی صحافت کو معاشی دباؤ، نئی ٹیکنالوجیز اور دانستہ معلوماتی ہیرا پھیری کے باعث “غیر معمولی دباؤ” کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے میکسیکو کے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی، ماحولیاتی نقصان یا منظم جرائم کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں حتیٰ کہ ان کے اہل خانہ بھی محفوظ نہیں رہتے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کارکنوں کو سرحد پار نگرانی اور دباؤ کا سامنا بھی بڑھ رہا ہے ۔انہوں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ہتک عزت، غلط معلومات، سائبر کرائم اور دہشت گردی سے متعلق قوانین کو طاقتور حلقوں کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ مہنگے قانونی مقدمات کے ذریعے صحافیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔عالمی سطح پر اس وقت تقریباً 330 میڈیا کارکن قید میں ہیں جبکہ 500 کے قریب شہری صحافی اور انسانی حقوق کے بلاگرز بھی حراست میں ہیں۔
انہوں نے آن لائن ہراسانی اور بُلنگ پر بھی تشویش ظاہر کی جس کا زیادہ تر نشانہ خواتین صحافی بنتی ہیں جن میں سے تقریباً تین چوتھائی کو بدنامی مہمات اور جنسی تشدد کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے حملے “ایک ایسی غلط معلوماتی معاشرے” کو جنم دے سکتے ہیں جہاں میڈیا کو محفوظ رہنے کے لیے حقائق چھپانا اور سائنسی حقائق سے انکار کرنا پڑے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو خاموش کرانے کے طریقے تشویشناک حد تک تخلیقی ہو چکے ہیں جن میں رسائی محدود کرنا، انٹرنیٹ بند کرنا اور خبروں پر پابندی شامل ہے جبکہ بعض مواقع پر سیاسی، کارپوریٹ اور میڈیا طاقتوں کا گٹھ جوڑ جمہوریت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی دباؤ بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے اور تقریباً ایک تہائی ممالک میں فنڈنگ کی کمی اور میڈیا کے ارتکاز کے باعث مقامی نیوز ادارے بند ہو رہے ہیں۔ان تمام چیلنجز کے باوجود صحافی سخت ترین حالات میں بھی رپورٹنگ جاری رکھے ہوئے ہیں حتیٰ کہ ہسپتال کے بستروں اور وہیل چیئرز سے بھی، کیونکہ وہ سچ کو سامنے لانے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
ہائی کمشنر نے کہا کہ صحافی اکیلے یہ جنگ نہیں لڑ سکتے لہٰذا ممالک کو چاہیے کہ میڈیا پر ظلم و ستم بند کریں، غیر ضروری پابندیاں ختم کریں، غلط قوانین کو منسوخ کریں اور قانونی نظام کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات سے ہم آہنگ کریں۔
انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ میڈیا کارکنوں کو تحفظ فراہم کریں، نگرانی سے بچائیں، خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں اور ذمہ داران کا احتساب یقینی بنائیں۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ آن لائن ہراسانی اور غلط معلومات کے خلاف مؤثر اقدامات کریں ۔
