اسرائیل نے غزہ میں پانی تک رسائی کو ہتھیار اور اجتماعی سزا کے طور پر استعمال کیا ہے، ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز

29 April 2026 | 06:29

غزہ ۔: اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف پانی تک رسائی کو بطور ہتھیار اور “اجتماعی سزا” کے طور پر استعمال کیا ہے۔

یہ بات ڈاکٹرو ں کی بین الاقوامی امدادی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے تاہم اسرائیل نے ڈاکٹرز ودآئوٹ بارڈرز کی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

رشیا ٹوڈے کے مطابق ڈاکٹرز ودآئوٹ بارڈز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں جان بوجھ کر پانی کی قلت پیدا کی ہے اور یہ اقدام انسانی وقار اور بقا سے مطابقت نہیں رکھتا ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے بعد سے پانی، صفائی اور حفظان صحت تک رسائی کو شدید کمزور کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں غزہ میں پانی کی قلت سے پید اہونے والی بیماریوں بشمول اسہال، جلد کے انفیکشن، جوئیں اور متاثرہ زخم میں تیزی سے اضافے پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔

مزید برآں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صاف پانی اور صفائی ستھرائی کی کمی بھی غذائی قلت کو بڑھا رہی ہے اور ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔غزہ میں میٹھے پانی کے قدرتی ذرائع نہیں ہیں، اس کی بجائے زمینی اور سمندری پانی پر انحصار کیا جاتا ہے، دونوں کو صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹرز ودآئوٹ بارڈرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے زیادہ تر انفراسٹرکچر، بشمول ڈی سیلی نیشن پلانٹس، بورہولز، پائپ لائنز، اور سیوریج سسٹم، ناقابل استعمال یا ناقابل رسائی بنا دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انفراسٹرکچر کی تباہی کے بعد ڈاکٹرز ودآئوٹ بارڈرز غزہ میں پانی پیدا کرنے والا سب سے بڑا غیر سرکاری ادارہ بن گیا ہے، جو موبائل یونٹس کے ذریعے زیرزمین پانی کو پمپ اور صاف کر رہا ہے اور اسے ٹرک کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں تقسیم کر رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج نے ڈاکٹرز ودآئوٹ بارڈرز کے متعدد ایسے ٹرکوں پر حملہ کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم از کم انسانی ہمدردی کی حد تقریباً 15 لیٹر پانی فی شخص فی دن ہے، جس میں پینے کے لیے 6 لیٹر اور گھریلو استعمال کے لیے 9 لیٹر شامل ہیں۔

یونیسیف کے مطابق غزہ میں لوگوں کو بقا کی یہ سطح بہترین طریقے سے مل رہی ہے، بہت سے لوگ پینے کے صاف پانی کی کم سے کم مقدار تک بھی رسائی سے قاصر ہیں۔

اسرائیل کے کوآرڈینیٹر آف گورنمنٹ ایکٹیویٹیز ان دی ٹیریٹریز نے ایکس پر پوسٹس میں اس رپورٹ کو مسترد کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل پانی تک رسائی کو محدود نہیں کر رہا ۔انہوں نے ایم ایس ایف پر جانبدارانہ رپورٹنگ اور آپریشنل کوتاہیوں کا الزام لگایا۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ اکتوبر میں جنگ بندی پر اتفاق ہونے کے باوجود، غزہ پر اسرائیلی حملے اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 700 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد 72,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔