کمبوڈیا میں فنان ٹیکو کینال منصوبے کے دوسرے مرحلے کی تعمیر کا آغاز
تاکیو۔:کمبوڈیا میں فنان ٹیکو انٹیگریٹڈ واٹر ریسورس مینجمنٹ منصوبے کے دوسرے مرحلے کی تعمیر کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا جو چین کے ساتھ مشترکہ اشتراک سے مکمل کیا جائے گا۔
شنہوا کے مطابق تقریب میں کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن مانیٹ اور کمبوڈیا میں چین کے سفیر وانگ وینبن نے شرکت کی جہاں دونوں رہنماؤں نے تقاریر کیں اور بھاری مشینری کا بٹن دبا کر تعمیراتی کام کے آغاز کی علامتی تقریب انجام دی۔یہ مکمل منصوبہ 172.6 کلومیٹر طویل ہے جو دریائے میکونگ پریک تاکیو سے شروع ہو کر جنوب مغربی صوبہ کیپ میں سمندر تک جائے گا اور یہ تاکیو اور کمپوٹ صوبوں سے گزرے گا، منصوبے کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن مانیٹ نے کہا کہ یہ منصوبہ دارالحکومت نوم پین کو سمندر سے جوڑنے والی ایک اہم اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ثابت ہوگا،اس کا بنیادی مقصد ملکی اقتصادی ترقی، آبی نقل و حمل اور لاجسٹکس صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہر کے اطراف کے علاقوں کو صنعتی، تجارتی، زرعی صنعتی، لاجسٹک اور خصوصی اقتصادی زونز کے ساتھ ساتھ سیاحتی مقامات میں تبدیل کرے گا، جس سے طویل المدتی بنیادوں پر سماجی و اقتصادی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔چینی سفیر وانگ وینبن نے کہا کہ چین دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان عملی اور پائیدار بنیادوں پر تعاون کو فروغ دینے کا حامی ہے اور وہ کمبوڈیا کے ساتھ مل کر مشترکہ مستقبل کے حامل تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔
چائنا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن گروپ کے چیئرمین سونگ ہائی لیانگ نے کہا کہ کمپنی اعلیٰ معیار اور پیشہ ورانہ تقاضوں کے مطابق اہم منصوبوں میں بھرپور کردار ادا کرے گی اور کمبوڈیا کے ترقیاتی اہداف کے حصول میں معاونت فراہم کرے گی۔
بیلٹئی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر جوزف میتھیوز نے کہا کہ یہ نہر جنوبی صوبوں کے کسانوں کو مستقل پانی فراہم کرے گی جس سے ایک سال میں متعدد فصلیں اگانے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کا دوسرا مرحلہ مقامی مزدوروں اور انجینئرز کے لیے ہزاروں ملازمتوں کے مواقع پیدا کر رہا ہے اور ان علاقوں میں جائیداد کے شعبے کو بھی فروغ دے رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ کمبوڈیا کی معیشت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے دارالحکومت سے براہ راست ساحلی بندرگاہوں تک سامان کی ترسیل ممکن ہوگی۔
چین آسیان اسٹڈیز سینٹر کے نائب ڈائریکٹر تھونگ مینگ ڈیوڈ نے کہا کہ یہ منصوبہ نقل و حمل کے اخراجات میں کمی، لاجسٹک ڈھانچے کی بہتری اور علاقائی رابطوں کے فروغ کے ذریعے کمبوڈیا کی اقتصادی خودمختاری کو مضبوط کرے گا۔مقامی رہائشیوں نے بھی اس منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ان کے علاقوں میں تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت کو فروغ ملے گا اور مقامی معیشت میں بہتری آئے گی۔
