مشرقِ وسطیٰ کی انسانی ضروریات میں تیزی سے اضافہ ، امدادی سرگرمیوں کو شدید چیلنجز درپیش ہیں، اقوام متحدہ

14 April 2026 | 05:05

اقوام متحدہ ۔: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں انسانی ضروریات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ امدادی سرگرمیوں کی فراہمی کو شدید چیلنجز درپیش ہیں۔

شنہوا کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (اوسی ایچ اے )نے ایک بیان میں کہی۔ اوچا کے مطابق ایران میں بڑھتی ضروریات، لبنان میں گہرے ہوتے بحران اور غزہ کی پٹی میں جاری کشیدگی کے باعث امدادی کارروائیاں مشکل ہو گئی ہیں،رسائی میں رکاوٹیں اور وسیع معاشی مشکلات امدادی کاموں میں مزید دشواریاں پیدا کر رہی ہیں۔

او چا کے مطابق اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار ایران میں حکومتی سطح پر جاری امدادی اقدامات میں تعاون کر رہے ہیں۔

بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف نے بتایا کہ وہ بچوں اور خاندانوں کو نفسیاتی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بنیادی صحت کی سہولیات کی بحالی میں بھی مدد دے رہا ہے۔یونیسیف کا کہنا ہے کہ ایران میں دو موبائل ہیلتھ یونٹس، آٹھ بنیادی صحت کے مراکز پر مشتمل خیمے اور 80 سے زائد ہنگامی طبی کٹس فراہم کی جا چکی ہیں جن سے دو لاکھ پچیس ہزار سے زائد افراد مستفید ہو رہے ہیں۔

ادھر لبنان میں شدید جھڑپوں کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ اوچا کے مطابق جنوبی لبنان اور مغربی بقاع میں فوجی کارروائیاں تاحال جاری ہیں، وہاں ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور ہزاروں افراد زخمی ہیں۔یونیسیف نے انکشاف کیا کہ لبنان میں پانی کی فراہمی کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جس کے باعث صاف پانی تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔

غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اوچا نے بتایا کہ شمالی علاقے میں زیکم کراسنگ کو 40 دن سے زائد بند رہنے کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے جس کے بعد امدادی سامان کی ترسیل جزوی طور پر بحال ہوئی ہے، تاہم کسٹمز کلیئرنس، سکیورٹی منظوری اور دیگر پابندیوں کے باعث امدادی کارروائیاں اب بھی محدود ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق رفح کراسنگ کے ذریعے مریضوں کے انخلا کی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں، تاہم سکیورٹی خدشات بدستور موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کی بین الادارہ جاتی کمیٹی نے جنگی قوانین اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مسلسل خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہزاروں شہری جاں بحق یا زخمی جبکہ لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔کمیٹی نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں، امدادی کارکنوں و بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے بھی اصول ہوتے ہیں جن کا احترام ہر صورت لازم ہے۔