
اسلام آباد: وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے جمعرات کو سروس لانگ مارچ ٹائرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے چیئرمین مسٹر جن یونگ شینگ اور ان کے وفد نے تفصیلی ملاقات کی۔
ملاقات میں پاکستان کی ٹائر انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور ٹیرف پالیسی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران کمپنی نے پاکستان میں مزید 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جو ملک کی صنعتی اور معاشی صلاحیت پر اس کے اعتماد کا مظہر ہے۔
وفد نے بتایا کہ کمپنی جون 2026 تک 70 ملین ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کے قریب ہے، جبکہ آئندہ مالی سال میں 100 ملین ڈالر سے زائد برآمدات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے یہ کمپنی قلیل مدت میں پاکستان کے نمایاں نان ٹیکسٹائل برآمد کنندگان میں شامل ہو سکتی ہے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان نے عالمی ٹائر مارکیٹ میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے، جہاں امریکہ اور برازیل کو برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کو ٹائر برآمد کرنے والا پانچواں بڑا اور برازیل کو ساتواں بڑا برآمد کنندہ بن چکا ہے، جو چند سال قبل تقریباً نہ ہونے کے برابر موجودگی سے ایک بڑی پیش رفت ہے۔
جام کمال خان نے کہا کہ اس کامیابی کا بڑا سبب چینی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی اور مہارت کی منتقلی ہے، جس سے مقامی پیداوار عالمی معیار پر پورا اترنے اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر نے صنعت کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اُن شعبوں کی مکمل حمایت کرے گی جو بہتر کارکردگی اور برآمدی صلاحیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی متوازن ٹیرف پالیسی اپنائی جائے جو مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ عالمی مسابقت کو بھی یقینی بنائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو متنوع بنانے کے لیے ابھرتی ہوئی صنعتوں کے فروغ پر کام کر رہی ہے، جن میں ترقی کی وسیع گنجائش موجود ہے۔وفد نے پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی شراکت داری کو ٹائر سیکٹر کی تیز رفتار ترقی کا ایک اہم محرک قرار دیا۔
کمپنی کی نوری آباد میں قائم فیکٹری کو ایک جدید اور مؤثر صنعتی یونٹ کے طور پر پیش کیا گیا، جہاں تقریباً 2,000 افراد کو روزگار حاصل ہے اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے یہ خطے کی پائیدار پیداوار کی مثالوں میں شامل ہے۔
ملاقات میں دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ برآمدات پر مبنی ترقی اور صنعتی توسیع کے لیے حکومت اور صنعت کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
جام کمال نے کہا کہ پاکستان کو اپنی صنعتی صلاحیت بڑھانے اور عالمی مسابقت میں اضافہ کرنے کے لیے تنوع اور بین الاقوامی شراکت داری سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا۔سرمایہ کاروں نے عالمی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔








