اسلام آباد: سابق رکن نیشنل کمیشن برائے اقلیتی امور البرٹ ڈیوڈ نے پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدہ اور جنگ بندی کرانے میں پاکستان کی قیادت نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

جمعرات کو یہاں ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جنگ بندی نے خطے اور دنیا کو شدید خطرات سے بچالیا ہے، اگر امن قائم نہ ہوتا تو خطہ ایک بڑے تصادم کا شکار ہوسکتا تھا جس کے اثرات عالمی امن اور معیشت پر نہایت تباہ کن ثابت ہوتے۔

البرٹ ڈیوڈ نے کہا کہ پاکستان اب ایک حقیقی امن قائم کرنے والے ملک کے طور پر ابھرکر سامنے آیا ہے، یہ موجودہ قیادت کی پالیسیوں کا تسلسل ہے جس نے پاکستان کو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑے اور اہم کھلاڑی کے طور پر متعارف کرایا ہے۔

سابق رکن نیشنل کمیشن برائے اقلیتی امور نے کہا کہ امریکا اور ایران کی جانب سے پاکستان پر اعتماد اور اسے ثالثی کا کردار دینے کا فیصلہ پاکستان کی موجودہ قیادت کی بصیرت اور ساکھ کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے وفود کی پاکستان آمد اور ممکنہ ”اسلام آباد معاہدہ“ عالمی اور علاقائی امن کی طرف ایک تاریخی قدم ہوگا، اس کا اثر معیشتوں پر بھی نہایت مثبت ہوگا اور خطے میں استحکام پیدا کرے گا۔

البرٹ ڈیوڈ نے کہا کہ یہ نتیجہ پاکستان کی قیادت کو، جو تہذیبوں کے امین ہیں، نوبیل امن انعام کے حقیقی امیدوار کے طور پر سامنے لے آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کو جو عالمی سطح پر پہچان ملی ہے وہ اس کی سفارت کاری اور امن کےلئے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہے۔