اقوام متحدہ: اقوام متحدہ نے کہاہے کہ لبنان میں حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک بچوں سمیت 1,530 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔

شنہوا کےمطابق اقوام متحدہ کے ڈپٹی سپیشل کوآرڈینیٹر عمران ریاض نے بتایا کہ شہید ہونے والوں میں 130 بچے شامل ہیں جبکہ 461 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے اس صورتحال کو “بہت بڑا شہری المیہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں نقل مکانی کی صورتحال غیر معمولی ہو چکی ہے، جہاں 11 لاکھ سے زائد افراد، جو کل آبادی کا تقریباً 20 فیصد بنتے ہیں، بے گھر ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت تقریباً 138,000 افراد 678 اجتماعی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں جبکہ 800,000 سے زائد افراد میزبان کمیونٹیز یا عارضی مقامات پر رہ رہے ہیں، جہاں بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ میزبان کمیونٹیز پر شدید دباؤ ہے اور ملک کا بنیادی ڈھانچہ اور عوامی خدمات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صحت کے شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جہاں 106 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں طبی عملے کے 57 ارکان شہید اور 158 زخمی ہوئے جبکہ 51 ہیلتھ سینٹرز اور 6 ہسپتال بند ہو چکے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ کشیدگی کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور تمام فریقین بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے شہریوں، انفراسٹرکچر اور طبی عملے کا تحفظ یقینی بنائیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جنوبی لبنان کے متاثرین کے لیے 308 ملین ڈالر کی ہنگامی اپیل کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم عہدیدار نے بتایا کہ اس کا صرف ایک تہائی فنڈ ہی حاصل ہو سکا ہے۔