wturdu.com
wturdu.com
  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • بین الاقوامی
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • کاروبار
  • کھیل
  • تعلیم
  • بلاگز
  • رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
wturdu.com
  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • بین الاقوامی
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • کاروبار
  • کھیل
  • تعلیم
  • بلاگز
  • رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی

سکرین کا زیادہ استعمال بچوں میں آٹزم جیسی علامات کو متحرک کر سکتا ہے،کلینیکل سائیکالوجسٹ

21 June 2026 | 07:50

اسلام آباد۔: کلینیکل سائیکالوجسٹ طاہرہ انس نے والدین پر زور دیا ہے کہ بچوں کے اسکرین ٹائم اور فاسٹ فوڈ کا استعمال کم کریں، اس طرح کی عادات آٹزم جیسی علامات، کمزور سماجی میل جول، نظر کی کمزوری اور کمیونی کیشن کی صلاحیتوں میں کمی کا باعث بن رہی ہیں۔

اتوار کو ایک مقامی میڈیا چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر نفسیات طاہرہ انس نے ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم کے بچوں کی صحت پر نقصان دہ اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ سماجی ترقی، مواصلات کی مہارت، توجہ کا دورانیہ اور جذباتی بہبود پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

انہوں نے روشنی ڈالی کہ والدین خود اکثر اسکرینوں کے ساتھ ضرورت سے زیادہ مصروف رہتے ہیں، اپنے بچوں کے ساتھ بامعنی بات چیت کے لیے بہت کم وقت نکالتے ہیں اور غیر ارادی طور پر فعال والدین کی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل آلات پر یہ بڑھتا ہوا انحصار ماں اور باپ کے رشتوں کو کمزور کر رہا ہے ۔ اس سے براہ راست دیکھ بھال، توجہ اور جذباتی تعلق کو تیزی سے نظر انداز ہو رہے ہیں۔

ماہر نفسیات نے متنبہ کیا کہ اس طرح بچوں میں نشوونما کے حوالے سے سنگین خدشات کا سمانا کرنا پڑ سکتا ہے جن میں توجہ کا دورانیہ کم ہونا، مواصلت میں تاخیر، نظر کی کمزوری اور محدود سماجی تعامل شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سکرین کا ضرورت سے زیادہ استعمال رویوں میں تبدیلی کے مسائل، جذباتی لاتعلقی اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی سے بھی منسلک ہے جو مجموعی ترقی کو منفی طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔

طاہرہ انس نے اس بات پر زور دیا کہ صحت مند خاندانی مصروفیت کی کمی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے، کیونکہ بچے والدین یا ساتھیوں کی بجائے زیادہ وقت آلات کے ساتھ گزار رہے ہیں۔

انہوں نے نے خاندانوں پر زور دیا کہ وہ توازن بحال کرنے اور صحت مند ذہنی، جذباتی اور سماجی نشوونما کے لیے بیرونی سرگرمیوں، منظم معمولات اور بالمشافہ رابطے کی حوصلہ افزائی کریں۔

انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ گھر کے اندر اسکرین پر انحصار کو شعوری طور پر کم کریں اور بچوں کو صحت مند، حقیقی دنیا کی سرگرمیوں میں فعال طور پر شامل کریں جو سیکھنے اور جذباتی نشوونما میں معاون ہوں۔

انہوں نے کہا کہ خاندانوں کو معیاری وقت کو ترجیح دینے، والدین اور بچوں کے تعلقات کو مضبوط بنانے اور ایسے معمولات تخلیق کرنے کی ضرورت ہے جو بیرونی کھیل، پڑھنے اور آمنے سامنے بات چیت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ایپل وائس اسسٹنٹ سری کا مصنوعی ذہانت پر مبنی نیا ورژن متعارف
نیو ٹیک کی 2 ہزار نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی تربیت مکمل
پاکستان کا جی ایم او نظام کی جانب بڑا قدم، بائیو سیفٹی قوانین میں اہم اصلاحات
ایلون مسک کو اوپن اے آئی کے خلاف مقدمے میں شکست
کامسٹیک اور آئیڈا ریو سکول کے اشتراک سے خصوصی تعلیم کے تربیتی پروگرام کے تیسرے بیچ کا آغاز
کامسٹیک میں جدید ٹیکنالوجی اور کوانٹم کمپیوٹنگ پر بین الاقوامی ورکشاپ کا آغاز

اہم موضوعات

ٹرینڈنگ

معرکہِ حق: پاکستان کی طاقت اور قومی اتحاد کی عکاسی
حج اصلاحات: 4 سال سے اخراجات میں استحکام، 27 ارب کے ریفنڈز ،شارٹ حج،فیملی رومنگ اور ڈیجیٹل گورننس کا نفاذ

اسپیشل فیچرز

دشمن جان لے آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک، دور رس اور تکلیف دہ ہوں گے، ہر بے گناہ پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
معرکہِ حق: پاکستان کی طاقت اور قومی اتحاد کی عکاسی

مینو

سوشل میڈیا پر فالو کریں

Facebook

دیگر ویب سائٹس

Copyright © 2026. All Rights Reserved. A National Communications Services Company.