پاکستان کا جی ایم او نظام کی جانب بڑا قدم، بائیو سیفٹی قوانین میں اہم اصلاحات

24 May 2026 | 09:15

اسلام آباد۔: پاکستان نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اجسام ( جی ایم او) سے متعلق اپنے ریگولیٹری نظام کو مزید نرم اور جدید بنانے کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے پاکستان بایو سیفٹی رولز 2005 میں بڑے پیمانے پر ترامیم کی منظوری دے دی ہے جن کے تحت لائسنسنگ کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے گا جبکہ جامعات اور نجی شعبے میں لیبارٹری تحقیق کو بھی سہولت فراہم کی جائے گی۔

یہ اعلان اتوار کو وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان ترامیم کی کابینہ سے منظوری کی سفارش نیشنل بایو سیفٹی کمیٹی (این بی سی) کے اجلاس میں کی گئی جو وزارت کے سیکرٹری کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (Pak-EPA) کے ڈائریکٹر جنرل، اعلیٰ حکام، تکنیکی ماہرین اور بایو سیفٹی ریگولیٹری نظام سے وابستہ اراکین نے شرکت کی۔

وزارت کے ترجمان نے بتایا کہ ان اصلاحات کے پاکستان کی خوردنی تیل اور پولٹری صنعت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ یہ شعبے خوراک، جانوروں کی خوراک اور پراسیسنگ کے لیے درآمد شدہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویابین اور کینولا پر انحصار کرتے ہیں۔

اہم ترامیم میں 2024ء میں نافذ کی گئی “سن سیٹ کلاز” کا خاتمہ شامل ہےجس کے تحت جی ایم او درآمدات صرف 17 جنوری 2027ء تک محدود تھیں۔

مجوزہ ترامیم کے بعد سویابین اور کینولا سمیت جی ایم او اجناس کی درآمد بغیر کسی آخری تاریخ کے جاری رہ سکے گی۔نظرثانی شدہ قواعد میں نئی جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجیز کوباضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے جبکہ جامعات اور نجی تحقیقی اداروں کی انسٹیٹیوشنل بایوسیفٹی کمیٹیوں (IBCs) کو طلبہ کی لیبارٹری تحقیقاتی سرگرمیوں کی منظوری کے زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں۔

محمد سلیم شیخ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سائنسی بنیادوں پر تحقیق کوفروغ دینا اور بایوٹیکنالوجی میں موجود بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔

پاکستان کا موجودہ بایو سیفٹی نظام کارٹاجینا پروٹوکول آن بایو سیفٹی سے مطابقت یقینی بنانے کے لیے کثیر سطحی کمیٹی نظام کے تحت کام کرتا ہے۔

نئی ترامیم کے ذریعے کمیٹیوں کے ڈھانچے اور اختیارات کو مزید مؤثر اور تیز رفتار بنایا جائے گا تاکہ منظوریوں میں تاخیر کم ہو سکے۔

جی ایم او اجناس کی درآمد کے لائسنسنگ نظام میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ نئے فریم ورک کے تحت بین الاقوامی بایوٹیکنالوجی کمپنیاں مخصوص جی ایم او ایونٹس کے لیے براہ راست لائسنس کی درخواست دے سکیں گی۔

نیشنل بایو سیفٹی کمیٹی سے منظوری کے بعد یہ لائسنسز پاک ای پی اے کی ویب سائٹ پر جاری کیے جائیں گےجس کے بعد نجی درآمد کنندگان علیحدہ لائسنس کے بغیر منظور شدہ جی ایم او اجناس درآمد کر سکیں گے۔

پاک ای پی اے حکام کےمطابق اس اقدام سے کاروباری لاگت کم ہوگی اور خوردنی تیل نکالنے اور جانوروں کی خوراک کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔

پاک ای پی اے میں پاکستان بایو سیفٹی کلیئرنگ ہاؤس کے نیشنل پروگرام منیجر ڈاکٹر محمد رؤف نے کہا، “پاکستان کا بایوسیفٹی نظام کسی حد تک سخت اور احتیاطی نوعیت کا ہے۔ ہم اسے زیادہ کھلا، سائنسی بنیادوں پر استوار اور کاروبار دوست بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اصلاحات پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد سلیم شیخ نے کہا کہ یہ ترامیم پاکستان کے بایو سیفٹی نظام کو جدید، اختراعی اور مؤثر طرز حکمرانی کی جانب منتقل کرنے کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد بایو سیفٹی تحفظات، سائنسی ترقی، غذائی تحفظ اور سرمایہ کاری میں سہولت کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موسمیاتی دباؤ اور بڑھتی ہوئی غذائی قلت کے شکار دنیا میں پاکستان کو ایسے مؤثر اور سائنسی بنیادوں پر قائم ریگولیٹری نظام کی ضرورت ہے جو شفافیت اور تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے جدت کی حوصلہ افزائی کرے۔

حکام کے مطابق پاکستان اپنے بایو سیفٹی نظام کو مزید جدید بنانے کے لیے کینیڈا سمیت دیگر ممالک کے ماڈلز کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔usd