اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنماء اور امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر سینیٹر شیری رحمان نے پاکستان کی سفارت کاری کو ایک تاریخی عالمی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کامیابی سے دنیا ایک بڑے بحران کا شکار ہونے سے بچ گئی،دیرپا استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل مذاکرات کی ضرورت ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں شیری رحمان نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے عالمی سطح پر شدید تناؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر کے دنیا بھر سے تعریف وتحسین حاصل کی ہے،یہ تاریخی امریکاایران جنگ بندی ایسے وقت میں ایک کلیدی کردار اور یہ معاہدہ ایک سنگ میل ہے جس وقت دنیا افراتفری کے کنارے پر کھڑی تھی۔

شیری رحمان نے زور دیا کہ بات چیت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہنی چاہیے، بنیادی مسائل پر لچک برقرار رکھی جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر سپائلرز یا سیز فائر کی کسی بھی خلاف ورزی سے پیشرفت متاثر ہو سکتی ہے۔انہوں نے تاکید کی کہ مسلسل سفارت کاری اور تعمیری مصروفیت ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔

پاکستان کی عالمی شناخت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب دنیا کے بڑے حصے کو غیر یقینی کا سامنا تھا، تو پاکستان کی قیادت نے اپنے شہریوں کو ریلیف اور استحکام فراہم کیا،ایسے تاریخی لمحات میں اندرونی سیاست کو ایک طرف رکھ دینا چاہیے۔

انہوں نے اس کامیابی کو کئی دہائیوں میں بے مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی طور پر ایک معجزے سے کم نہیں جو عالمی سطح پر پاکستان کے مضبوط اور قابلِ احترام کردار کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے خاص طور پر صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کی اور ان کی مسلسل کاوشوں اور اسٹریٹجک مصروفیت کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی فیصلہ کن قیادت نے دنیا کو بحران کے دہانے سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے پاکستان کو عالمی سطح پر شناخت ملی۔ انہوں نے امریکا اور ایران سے اپیل کی کہ وہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بنیادی مسائل جیسے پابندیاں، سیکیورٹی ضمانتیں اور طویل مدتی استحکام کا روڈ میپ حل کریں۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی سیز فائر کے بعد تنازع میں واپسی کو روکنے کے لیے ایک مسلسل مذاکراتی فریم ورک انتہائی ضروری ہے،دونوں فریقوں کو آنے والے مذاکرات میں زیادہ لچک اور باہمی اعتماد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔