نیمار اور بارسلونا کو فراڈ کیس میں بری قرار دینے کا فیصلہ برقرار

23 April 2026 | 04:01

میڈرڈ۔: سپین کی سپریم کورٹ نے برازیلین سٹار فٹ بالر نیمار، بارسلونا کے سابق صدور سینڈرو روزل اور جوزپ ماریا بارٹومیئو کے خلاف کرپشن اور دھوکہ دہی کے مقدمے میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے ان کی بریت کو برقرار رکھا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ای ایس پی این کے مطابق یہ مقدمہ 2013 میں نیمار کے برازیلین کلب سینٹوس سے بارسلونا منتقلی کے دوران مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق تھا۔

سپریم کورٹ کے فوجداری بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بارسلونا کی صوبائی عدالت کے 2022 کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل میں کوئی وزن نہیں، اور دستیاب شواہد استغاثہ کے مؤقف میں تضاد کو ظاہر کرتے ہیں۔

عدالت کے مطابق کاروباری معاملات میں نہ تو کوئی بدعنوانی ہوئی اور نہ ہی کسی قسم کا غیر قانونی فراڈ ثابت ہوا، نہ کھلاڑی کی جانب سے، نہ اس کے نمائندوں کی طرف سے اور نہ ہی کلب کی جانب سے۔

استغاثہ نے نیمار کے لیے 2 سال قید اور ایک کروڑ یورو جرمانے کی سزا کی استدعا کی تھی۔ یہ مقدمہ برازیل کی سرمایہ کاری کمپنی ڈی آئی ایس نے دائر کیا تھا، جو اس وقت نیمار کے حقوق میں 40فیصد حصے کی مالک تھی۔

کمپنی کا مؤقف تھا کہ کھلاڑی کے اصل تبادلے کی مالیت کم ظاہر کی گئی، جس کے باعث اسے اپنے جائز حصے سے کم رقم ملی۔

عدالت نے اس مؤقف کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سابقہ فیصلے کو برقرار رکھا ، تاہم عدالت نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر کیس ختم کر دیا ہے۔