ایران جنگ کے باعث عالمی مالیاتی استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں،آئی ایم ایف
واشنگٹن۔: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے کہاہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث عالمی مالیاتی استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور تنازعہ طویل ہونے پر مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام، مہنگائی میں اضافہ اور سرمایہ کے انخلا جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
یہ بات آئی ایم ایف اورعالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے موقع پرآئی ایم ایف کی جانب سے جاری گلوبل فنانشل سٹیبلٹی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ عالمی مالیاتی نظام کو بیک وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں جنگ کے اثرات، بڑھتی مہنگائی، سخت مالیاتی شرائط اور مالیاتی منڈیوں میں اچانک اتار چڑھائو شامل ہیں، اگرچہ اب تک منڈیاں نسبتاً منظم انداز میں ردعمل دے رہی ہیں، لیکن خطرات کا توازن منفی سمت میں جھکا ہوا ہے اور تنازع جتنا طویل ہوگا، مالیاتی دبائو اتنا ہی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق فروری سے اب تک عالمی حصص کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ حکومتی بانڈز کی شرح منافع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ مہنگائی بڑھنے کی توقعات ہیں۔ خاص طور پر ابھرتی معیشتوں کی مالیاتی منڈیوں پر اس کے اثرات زیادہ شدید ہیں، کیونکہ ڈالر مضبوط ہو رہا ہے اور توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق توانائی درآمد کرنے والے ترقی پذیر ممالک اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی معیشتیں پہلے ہی بیرونی دبائو اور محدود مالی ذخائر کا سامنا کر رہی ہیں۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو کرنسی کی قدر میں کمی اور بیرونی سرمایہ کے انخلا کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں ان ممالک میں سرمایہ کاری کا بڑا حصہ قلیل مدتی قرضوں کی صورت میں آیا ہے جو عالمی مالیاتی حالات خراب ہونے پر تیزی سے واپس جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ طویل ہونے پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جاری سرمایہ کاری کی رفتار بھی سست ہو سکتی ہے جس سے عالمی کاروباری سرگرمیوں اور مالیاتی منڈیوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ پورٹ میں حکومتوں اور مرکزی بینکوں کو مالیاتی نظام میں لیکویڈیٹی اور فنڈنگ کی دستیابی کو یقینی بنانے،مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے محتاط مانیٹری پالیسی اپنانے،سرکاری قرض کو مستحکم سطح پر لانے کے لیے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے،معاشی طورپرکمزور طبقات کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے ہدفی مالی مدد کی فراہمی اوربینکوں اور مالیاتی اداروں کی نگرانی اور سٹریس ٹیسٹنگ کو مضبوط بنانے کی سفارشات پیش کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف نے بدلتی ہوئی جغرافیائی اور معاشی صورتحال میں ممالک کو مضبوط پالیسی فریم ورک، شفاف حکمرانی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کی ہدایت بھی کی ہے۔
